ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
اسی دوران وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 15 روزہ کی بنیاد پر مقرر کرنے کے بجائے پہلے ہفتہ وار اور پھر روزانہ کی بنیاد پر طے کرنے کا نیا نظام متعارف کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں جس رفتار سے ردوبدل ہوگا، اسی تناسب سے عوام کو بھی ریلیف یا اضافی بوجھ منتقل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل کا نیا نظام، کیا عوام کو ریلیف ملے گا؟
حکومتی فیصلے کے بعد ابتدا میں پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔ بعد ازاں 21 جولائی کو پیٹرول کی قیمت میں صرف 35 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی، پھر مختلف اوقات میں دوبارہ 6 روپے اور 4 روپے فی لیٹر اضافے کیے گئے۔
27 جولائی کو پہلی مرتبہ پیٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپے فی لیٹر کمی کی گئی، جبکہ اسی روز ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔ اس عرصے کے دوران اوگرا نے مجموعی طور پر صرف ایک روپے 35 پیسے فی لیٹر ریلیف دیا، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 20 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جا چکا تھا۔
Which formula OGRA and petroleum ministry has adopted . When prices in international market go up, prices in Pakistan go up, but when prices in International market go down, prices in Pakistan still go up. Some kind of Form 47 formula is also in place in petroleum prices as well
— Rana Atif (@Rana_Atif101) July 28, 2026
اس کے بعد بھی گزشتہ روز اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں پیٹرول مزید ایک روپے 63 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا۔
حکومت نے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام متعارف کراتے وقت مؤقف اختیار کیا تھا کہ عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوگا تو پاکستان میں بھی قیمتیں بڑھیں گی اور اگر عالمی منڈی میں کمی آئے گی تو عوام کو فوری ریلیف دیا جائے گا۔
تاہم اس وقت عالمی منڈی میں خام تیل تقریباً 87 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد دوبارہ کم ہو کر تقریباً 80 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ چکا ہے، لیکن اس کمی کا خاطر خواہ فائدہ صارفین کو نہیں دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اور ماہرین معاشیات حکومتی پالیسی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

معاشی ماہر ڈاکٹر بشارت حسن سمجھتے ہیں کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 12 فیصد کمی کے بعد اسی تناسب سے عوام کو بھی ریلیف ملنا چاہیے تھا۔
ان کے مطابق حکومت نے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام اسی وعدے کے ساتھ متعارف کرایا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں کمی بیشی کا اثر فوری طور پر عوام تک منتقل کیا جائے گا، لیکن عملی طور پر اضافہ تو فوری کیا جاتا ہے جبکہ کمی نہ ہونے کے برابر دی جاتی ہے۔
ڈاکٹر بشارت حسن کے مطابق اس وقت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں تقریباً 126 روپے مختلف ٹیکسوں، لیویز اور مارجنز کی مد میں شامل ہیں۔
🚨Federal government decides to increase petroleum products prices, notification issued;
OGRA Alert ‼️
——Petroleum Prices for 29th July1. Petrol increased by PKR 1.63 Per Liter stands at PKR 335.81 Per Liter
2. Diesel increased by PKR 1.55 Per Liter stands at PKR… pic.twitter.com/FR2gxDPjcO— Abdullah Manzoor (@iabdullah278) July 28, 2026
ان کے بقول پیٹرولیم لیوی تقریباً 80 روپے، کسٹمز ڈیوٹی، ڈیلرز کا کمیشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن، ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سمیت دیگر محصولات عوام پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کو ریونیو حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ بنا لیا ہے، جبکہ عام شہری خصوصاً موٹر سائیکل استعمال کرنے والا طبقہ روزانہ سینکڑوں روپے ٹیکس کی مد میں ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس تقریباً ایک ماہ کا تیل کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے، اس لیے پہلے سے درآمد کیے گئے تیل کی قیمت کا فائدہ بھی عوام کو منتقل ہونا چاہیے، لیکن موجودہ نظام میں عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود صارفین کو اس کا مکمل فائدہ نہیں مل رہا۔
مزید پڑھیں: اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گی، علی پرویز ملک
سینیئر معاشی رپورٹر شکیل احمد کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر تقریباً 80 سے 85 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا، مگر اس کے باوجود پاکستان میں قیمتوں میں کمی انتہائی محدود رہی۔
ان کے مطابق گزشتہ دس روز میں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق 8 نوٹیفکیشن جاری کیے، لیکن عوام کو صرف ایک روپے 35 پیسے فی لیٹر کا مجموعی ریلیف ملا، جبکہ اسی عرصے میں ڈیزل تقریباً 63 روپے اور پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا کیا گیا۔
شکیل احمد کا کہنا ہے کہ حکومت عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے پر فوری اضافہ کر دیتی ہے، لیکن جب عالمی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو ریلیف انتہائی سست رفتار سے دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ رد و بدل آج سے شروع، کن ایام میں قیمتیں برقرار رہیں گی؟
ان کے مطابق حکومت مالی خسارے، پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے کیے گئے مالیاتی وعدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے محصولات کم کرنے سے گریز کر رہی ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عوام پر منتقل ہو رہا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، شہریوں کے مطابق پیٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کرایوں، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اگر حکومت عالمی منڈی میں اضافے کا بوجھ فوری طور پر عوام پر منتقل کرتی ہے تو عالمی منڈی میں کمی کا فائدہ بھی اسی رفتار سے عوام تک پہنچایا جائے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ شہریوں کو حقیقی ریلیف مل سکے۔














