پاکستان نے اقوام متحدہ کے یو این 80 (UN80) اصلاحاتی اقدام پر زور دیا ہے کہ اصلاحات سے متعلق تمام فیصلے شفاف، جامع اور اتفاقِ رائے کے ساتھ کیے جائیں، جبکہ رکن ممالک کو اس پورے عمل کا مرکزی کردار حاصل ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں:اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی کے غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحاتی تجاویز مختلف مراحل میں ہیں، اس لیے ان پر محتاط انداز میں غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کا سیکریٹریٹ رکن ممالک کو بروقت، شفاف اور تفصیلی معلومات فراہم کرے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کون سی تجاویز فیصلہ سازی کے لیے تیار ہیں اور کن پر مزید غور کی ضرورت ہے۔
Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,
Permanent Representative of Pakistan to the UN,
At Informal Meeting of the General Assembly on the UN80 Initiative,
(29 July 2026)
********Madam President,
Pakistan thanks the briefers for their updates on the UN80 Initiative. On… pic.twitter.com/2tKMNSMQrg
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 29, 2026
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اصلاحات سے متعلق ہر فیصلہ تمام رکن ممالک کی شمولیت اور اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے فنڈنگ کے مجوزہ نظام، مشترکہ ایس ڈی جی فنڈ (Joint SDG Fund) میں مجوزہ تبدیلیوں اور مختلف مالیاتی فریم ورک سے متعلق مزید وضاحت بھی طلب کی تاکہ غیر ضروری دہراؤ سے بچا جا سکے۔
مزید پڑھیں:طالبان نے تین ماہ میں تقریباً 400 افراد گرفتار، میڈیا پر شکنجہ مزید سخت، اقوام متحدہ کا انکشاف
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے نظام میں نتائج کے مؤثر جائزے کے ایسے طریقہ کار کی حمایت کرتا ہے جو سادہ، شفاف ہو، اضافی رپورٹنگ کا بوجھ نہ ڈالے اور موجودہ احتسابی نظام کی نقل نہ بنے۔














