نئے انتظامی یونٹ: پیپلز پارٹی کیوں غصے میں ہے؟

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نئے صوبوں یا انتظامی یونٹ کی بات ہو تو پیپلز پارٹی آستینیں چڑھا لیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا یہ سندھ سے محبت ہے یا یہ 18ویں ترمیم کے بعد سندھ کے نام سے حاصل ہونے والے مالی امکانات سے محبت ہے؟

پیپلز پارٹی کا مسئلہ سب کے سامنے ہے۔ یہ اب جاتی بہار کا تحفہ ہے۔ اربنائزیشن اور پیپلز پارٹی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ چنانچہ آپ دیکھ لیجیے یہ جماعت دور دراز کے دیہی علاقوں تک سکڑتی جا رہی ہے۔ کہنے کو یہ بڑی جمہوری اور پروگریسو جماعت ہے لیکن اس کی قوت کا مرکز آج بھی وہی جاگیردارانہ نظام ہےجو  وقت کے ہاتھوں اپنی موت مرنے جا رہا ہے۔ شہری علاقوں سے یہ جماعت عملا رخصت ہو چکی ہے ۔ جوں جوں شعور پھیلتا جا رہا ہے اس جماعت کا طرز سیاست  فعل ماضی مطلق مجہول ہوتا جا رہا ہے۔  یہ اب  روایتی  دیہی حلقہ جات میں جاگیرداروں کے سہارے قائم ہے۔

یہ وہ حقیقت ہے جسے آصف زرداری صاحب بروقت بھانپ گئے تھے ۔ انہوں نے قومی سطح پر محدود ہوتی اپنی جماعت کے گرد سندھ میں  ایک مالیاتی فصیل کھڑی کی جس کا نام 18 ویں ترمیم ہے۔ اس ترمیم کی  شان نزول  کی تفہیم میں یہ حقیقت یا بد گمانی  بہت واضح تھی کہ مرکز میں اقتدار کی تو اب گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے ۔ اب صوبوں کی مالیاتی خود مختاری کے نام پر سندھ میں مالیاتی مفادات کا جس حد تک ممکن ہو،  تحفظ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: یوم دفاع: ہمارے غیر مسلم جنگی ہیرو

نئے صوبوں یا نئے با اختیار انتظامی یونٹس  کا مطلب مالیاتی امکانات کی اس  فصیل میں شگا ف ہے اسی لیےا س کی مخالفت کی جا رہی ہے ۔ یہ سندھ سے محبت نہیں ، یہ اس مالیاتی بندوبست سے محبت ہے جو سندھ کے نام پر قائم کیا گیا ہے۔ سندھ سے محبت ہوتی تو سندھ اس حال میں نہ ہوتا ۔

پچھلے 16 سالوں میں این ایف سی ایوارڈز کی مد  میں سندھ کو وفاق سے  قریب  17 ہزار ارب مل چکے ہیں ۔ اس کی جزئیات میں نہیں پڑتے ، سادہ سا سوال پوچھتے ہیں کہ یہ رقم کہاں گئی۔ سندھ میں کون سا ترقیاتی کام ہوا؟ کون سا ایسا کارنامہ ہے جو سندھ میں رونما ہوا؟ کوئی 2،4 کام تو بتائیے۔

 اربوں کھربوں روپے وفاق سے کراچی تک پہنچتے تو سب نے دیکھے سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کہاں گئے؟ کتنے اعلی درجے کے ہسپتال بنے ، کتنے معیاری تعلیمی ادارے قائم ہوئے ، نیز یہ کہ ہزاروں ارب میں سے کراچی کا جو حق بنتا تھا کیا اس کو دیا گیا؟ یہ کیسا کمال ہے کہ لینے والوں نے ہزاروں ارب لے لیے لیکن کراچی میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ ایک مرکزی سڑک تک نہیں بن پا رہی ۔ سالوں سے کھدی پڑی ہے۔

روایت ہے کہ ملا نصیر الدین 2 کلو گوشت لائے ، بیوی سے پکانے کو کہا۔ اس نے پکا کر سارا گوشت خود کھا لیا اور رات کو ملا جی کے آگے دال سبزی رکھ دی۔ ملا نصیر الدین نے  پوچھا گوشت کہاں ہے تو ان کی اہلیہ کہنے لگیں گوشت تو بلی کھا گئی۔ ملا جی نے بلی کو پکڑا اور ترازو میں ڈالا، وہ پورے 2 کلو کی نکلی۔ ملا نصیر الدین کہنے لگے: یہ اگر بلی ہے تو گوشت کہاں ہے اور اگر یہ گوشت ہے تو بلی کہاں ہے۔ بالکل اسی طرح سندھ  حکومت کو پیٹ کے بل ترازو میں ڈال کر پوچھنا چاہیے کہ اگر سندھ یہ ہے تو 17 ہزار ارب روپے کہاں ہیں؟

یونیسف کے مطابق سندھ میں 74 لاکھ بچے ایسے ہیں جن کی عمر اسکول جانے کی ہے لیکن وہ سکول نہیں جا رہے۔ 54 فی صد بچے ایسے ہیں جو پرائمری اسکول کے بعد تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کی وجہ خود وزیر تعلیم سندھ سردار علی شاہ صاحب نے یہ بیان کی ہے کہ مڈل اور سیکنڈری اسکولوں کی تعداد کم ہے ۔ سوال یہ ہے کہ انہیں  مزید کتنے ہزار ارب چاہییں تا کہ یہ تعداد پوری ہو جائے؟ بات پھر وہی ہے کہ اگر سندھ کا حال یہ ہے تو 17 ہزار ارب کہاں گئے؟

 جو کچھ اسکول موجود ہیں ان میں 68 فیصد میں بجلی نہیں ہے، 58 فیصد میں ٹائلٹ کی سہولت نہیں ہے، 37 فیصد میں پینے کا صاف پانی نہیں ہے۔ 49 فیصد کی باؤنڈری وال ہی نہیں ہے۔ سوال پھر وہی  ہے کہ اگر یہ سندھ ہے تو اس سندھ کے 17 ہزار ارب کہاں ہیں؟

کسی اور کی نہیں سیکریٹری تعلیم سندھ کی گواہی ہے کہ 40 فیصد گھوسٹ اساتذہ ہیں۔ یعنی صرف تنخواہیں بٹور رہے ہیں۔ کچھ ایسے بھی جو بیٹھے دبئی ہیں، خدمت وہاں کسی اور کی کر رہے ہیں، تنخواہیں سندھ سے لے رہے ہیں۔ 17 ہزار ارب سے کیا یہاں لنگر خانہ کھلا ہے؟َ

مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا کے زیادہ تر مریض علاج کروانے پمز کیوں آتے ہیں؟

حالت یہ ہے کہ غریب عوام کے پاس ڈھنگ کا ڈاکٹر کوئی نہیں، عوام اتائیوں کے پاس جانے کو مجبور ہے ( جی ہاں اصل لفظ عطائی نہیں ، اتائی ہے) اور استعمال شدہ سرنجوں سے بچوں کو ایڈذ ہو رہی ہے۔ ان کی بے نور آنکھوں میں ایک ہی سوال ہے کہ ہمارے حصے کے 17 ہزار ارب کہاں گئے؟

اگر انتظامی یونٹ بنتے ہیں، یا نئے صوبے بنتے ہیں یا مقامی حکومتیں قائم ہوتی  ہیں اور ترقیاتی بجٹ سندھ حکومت کی بجائے ہر ضلع تک براہ راست تقسیم ہو کر پہنچے اور اس ضلع کو بتایا جائے کہ اس سال کے ترقیاتی بجٹ میں آپ کے حصے میں اتنی رقم آئی ہے تو اس میں کیا حرج ہے۔

اس میں سندھ کا کوئی نقصان نہیں۔ البتہ اس میں ان کا بڑا نقصان ہے جنہوں نے سندھ کے نام پر اپنے گرد مالیاتی امکانات کی فصیل کھڑی کر رکھی ہے۔ یہاں مقامی حکومتیں کسی کو پسند ہی نہیں آتیں کیونکہ شاہی خاندانوں کو اقتدار ہاتھ سے جاتا نظر آتا ہے۔

مزید پڑھیں: مولانا کیا چاہتے ہیں؟

اختیارات کی نیچے تک منتقلی بہت ضروری ہے۔ کشمور سے کراچی 13 گھنٹے کا سفر ہے، ڈیرہ بگٹی سے کوئٹہ 15 گھنٹے لگتے ہیں میانوالی سے لاہور کون سا کہکشاؤں کا سفر ہے۔ آج کے دور میں اتنا بڑا انتظامی ’کھلار‘ ویسے ہی غیر حکیمانہ ہے۔

اختیارات اور وسائل سب کی نیچے تک منتقلی ہونی چاییے۔ کسی کے دستر خوان کو خطرہ ہے تو ہوتا رہے۔  اشرافیہ کے یہ سارے دستر خوان لپیٹ دیجیے اور عام آدمی کی فکر کیجیے، جسے ہر پہر پیاس بجھانے کے لیے کنواں کھودنا پڑتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ماضی میں اسلام آباد نے بیک وقت کتنے احتجاج دیکھے؟

1980 فوٹو اے آئی ٹرینڈز: تصویریں بنانے کا شوق کہیں آپ کا فون اور ذاتی ڈیٹا ہیکرز کے حوالے تو نہیں کررہا؟

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو وفاق سے ملنے والے 22 ہزار ارب روپے عوام پر خرچ نہیں ہوئے، رکن صوبائی اسمبلی نجم مرزا

اپوزیشن کو گنجائش دی جائے تو 27 ستمبر کو لانگ مارچ جیسے حالات سے بچا جا سکتا ہے، فواد چوہدری کا حکومت کو مشورہ

پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاج، اسلام آباد میں سیکیورٹی پلان تیار، کنٹینرز پہنچنا شروع

ویڈیو

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو وفاق سے ملنے والے 22 ہزار ارب روپے عوام پر خرچ نہیں ہوئے، رکن صوبائی اسمبلی نجم مرزا

اپوزیشن کو گنجائش دی جائے تو 27 ستمبر کو لانگ مارچ جیسے حالات سے بچا جا سکتا ہے، فواد چوہدری کا حکومت کو مشورہ

پاکستان میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا میلہ، دنیا بھر سے ممتاز آئی ٹی ماہرین کی شرکت

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘