دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اپنی تازہ سہ ماہی مالی رپورٹ میں توقعات سے بہتر نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبوں میں سرمایہ کاری اس کی ترقی کا اہم محرک ثابت ہوئی ہے۔
کمپنی کے مطابق رواں مالی سال کی آخری سہ ماہی، جو جون میں ختم ہوئی، میں مائیکروسافٹ نے 90 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی، جبکہ اس کا خالص منافع 35.8 ارب ڈالر رہا۔
مالی نتائج نے سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کے ان خدشات کو کم کیا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مائیکروسافٹ کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری مستقبل میں خاطر خواہ فائدہ دے رہی ہے یا نہیں۔
مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو افسر ستیا نڈیلا نے کہا کہ کمپنی کے اے آئی سے چلنے والے کاروباری پیداواری ٹول کوپائلٹ (Copilot) کے صارفین کی تعداد 3 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جو صارفین کے اس اعتماد کی علامت ہے کہ وہ اپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی تبدیلی کے لیے مائیکروسافٹ کی خدمات استعمال کر رہے ہیں۔
کمپنی نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کی کمپنی انتھروپک (Anthropic) میں سرمایہ کاری سے اسے 3.2 ارب ڈالر کا فائدہ حاصل ہوا۔
مائیکروسافٹ نے مزید کہا کہ اوپن اے آئی (OpenAI) میں اس کی سرمایہ کاری نے چوتھی سہ ماہی کے خالص منافع میں 480 ملین ڈالر جبکہ پورے مالی سال کے منافع میں 4.9 ارب ڈالر کا اضافہ کیا۔
اے آئی انفراسٹرکچر پر ٹیک کمپنیوں کے اربوں ڈالر خرچ
امریکا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور جدید ترین اے آئی ماڈلز کی تیاری پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایمیزون، مائیکروسافٹ، الفابیٹ اور میٹا رواں سال مجموعی طور پر اے آئی ڈیٹا سینٹرز، چپس اور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر پر تقریباً 700 ارب ڈالر خرچ کرنے کی سمت بڑھ رہی ہیں۔
مائیکروسافٹ نے بدھ کے روز 2026 کے کیلنڈر سال کے لیے اپنے مجموعی اخراجات کے تخمینے میں بھی تبدیلی کرتے ہوئے اسے پہلے کے 190 ارب ڈالر سے کم کر کے 175 ارب ڈالر کر دیا۔
کمپنی نے گزشتہ سہ ماہی میں 41 ارب ڈالر خرچ کیے اور توقع ظاہر کی ہے کہ رواں سہ ماہی میں اس کے اخراجات بڑھ کر 50 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔
مائیکروسافٹ کی چیف فنانشل افسر ایمی ہُڈ نے تجزیہ کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی کے تقریباً دو تہائی اخراجات ’مختصر مدت استعمال ہونے والے اثاثوں‘ پر کیے جا رہے ہیں، جن میں خاص طور پر چپس شامل ہیں، کیونکہ صارفین کو اے آئی اور غیر اے آئی دونوں طرح کے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔
مائیکروسافٹ کے حصص کی قیمت بدھ کو مارکیٹ بند ہونے کے بعد ہونے والی تجارت میں 8 فیصد سے زائد بڑھ گئی۔
میٹا کے اخراجات بڑھنے پر سرمایہ کار محتاط
دوسری جانب سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے بھی بدھ کو اپنی سہ ماہی رپورٹ جاری کی۔
کمپنی نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ وہ ڈیٹا سینٹرز اور چپس میں سرمایہ کاری کے باعث رواں سال سرمایہ جاتی اخراجات (Capital Expenditure) پر 145 ارب ڈالر تک خرچ کر سکتی ہے، جو 2025 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔
میٹا کے مطابق اس کا خالص منافع گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد کم ہو کر 15.8 ارب ڈالر رہ گیا۔
تاہم کمپنی کی آمدنی 28 فیصد اضافے کے ساتھ 60.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو توقعات سے بہتر رہی اور اس کے اشتہاری کاروبار کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔
اس کے باوجود میٹا کے حصص کی قیمت بعد از کاروباری اوقات میں 12 فیصد تک گر گئی، جسے تجزیہ کاروں کی جانب سے کمپنی کے بڑے پیمانے پر اے آئی اخراجات پر تحفظات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
گوگل کی پیرنٹ کمپنی بھی اے آئی پر اربوں خرچ کرنے کی تیاری میں
رپورٹ کے مطابق گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ نے جون میں اعلان کیا تھا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے لیے 80 ارب ڈالر تک کے نئے شیئرز جاری کرے گی، جبکہ معروف سرمایہ کار وارن بفیٹ کی کمپنی برکشائر ہیتھ وے نے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا تھا۔
گزشتہ ہفتے الفابیٹ نے پورے سال کے لیے اپنے سرمایہ جاتی اخراجات کا تخمینہ بڑھا کر 205 ارب ڈالر تک کر دیا، جو پہلے 190 ارب ڈالر تھا۔
کمپنی کی چیف فنانشل افسر انات اشکنازی کے مطابق اخراجات میں یہ اضافہ بنیادی طور پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے باعث کیا گیا ہے۔














