امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کے لیے ایک تاریخی سفارتی پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت حماس اور غزہ میں موجود دیگر تمام مسلح گروہوں نے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ان کے مطابق مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی اور بورڈ آف پیس کی کوششوں سے طے پانے والا یہ معاہدہ غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام، اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بنے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ امن اور سلامتی کی جانب ایک غیر معمولی اور تاریخی قدم ہے۔ ان کے بقول یہ ان کے 20 نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد میں ایک بڑا سنگ میل ہے، جس کا مقصد غزہ کی جنگ کا خاتمہ، نئی طرز حکمرانی، تعمیر نو، انسانی امداد اور معاشی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔
Today, the Board of Peace reached a HISTORIC agreement for the COMPLETE DISARMAMENT of Hamas and all other armed groups in Gaza.
A monumental step toward lasting PEACE and SECURITY. pic.twitter.com/RYUKUdrwIJ
— The White House (@WhiteHouse) July 30, 2026
ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے کے تحت غزہ کو آئندہ دہشتگرد حملوں کے اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا، جبکہ ایک نئی فلسطینی حکومت عوامی نمائندگی کی بنیاد پر غزہ کا انتظام سنبھالے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی استحکامی فورس کی معاونت سے ایک نئی فلسطینی پولیس فورس بھی قائم کی جائے گی تاکہ علاقے میں قانون کی حکمرانی، امن و امان اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
معاہدے کے مطابق حماس اور دیگر مسلح گروہ مرحلہ وار اپنے تمام ہتھیار ایک طے شدہ طریقہ کار کے تحت جمع کرائیں گے، جبکہ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج بھی مرحلہ وار غزہ سے انخلا کرے گی۔ ہتھیاروں کی فہرست سازی، ذخیرہ اور نگرانی کا عمل ایک بین الاقوامی تصدیقی نظام کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:حماس کی جانب سے ایمرجنسی کمیٹی کی تحلیل، غزہ بورڈ آف پیس کا ردعمل سامنے آگیا
غزہ بورڈ آف پیس کے مطابق مصر، قطر، ترکی، امریکا اور حماس کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد جنگ بندی کے اگلے مراحل پر مشتمل تفصیلی روڈ میپ کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت غزہ کے انتظامی امور ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ (NCAG) کے سپرد کیے جائیں گے، جو سرکاری اداروں، بنیادی خدمات، مالیاتی اور انتظامی معاملات کی نگرانی کرے گی۔ کمیٹی کی آزادی کو یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی فلسطینی دھڑے کو اس کے کام میں مداخلت کی اجازت نہیں ہوگی۔
منصوبے کے تحت بھاری ہتھیار، اسلحہ کے ذخائر، فوجی تنصیبات اور سرنگوں کے وسیع نیٹ ورک کو ختم کر کے بین الاقوامی نگرانی میں محفوظ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک بین الاقوامی تصدیقی کمیشن، بین الاقوامی استحکامی فورس اور نئی فلسطینی پولیس فورس نگرانی کے فرائض انجام دیں گی، جبکہ کوئی بھی ہتھیار اسرائیل یا کسی دوسرے فلسطینی گروہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
US President Donald Trump says Gaza Board of Peace has reached agreement to disarm Hamas and all armed groups in phases, a step towards a new Palestinian government and long-term security.
Here's what the plan says.
🔴 LIVE updates: https://t.co/TBxi7fBaki pic.twitter.com/CsyrSdaPFW
— Al Jazeera English (@AJEnglish) July 31, 2026
حماس کے ایک وفد کے رکن نے کہا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔ ان کے مطابق اگر اسرائیل طے شدہ نکات پر عمل نہیں کرتا تو معاہدے پر عمل درآمد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
غزہ بورڈ آف پیس نے اپنے بیان میں کہا کہ پہلی مرتبہ حماس نے اپنے تمام ہتھیار ترک کرنے کے قابلِ عمل منصوبے پر باضابطہ اتفاق کیا ہے، جس کے بعد اسرائیلی فوج غزہ سے مرحلہ وار واپس جائے گی۔ بورڈ کے مطابق یہ معاہدہ غزہ کے عوام کے لیے بہتر مستقبل اور اسرائیل کے لیے سلامتی کی ضمانت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
🚨 HUGE & HISTORIC: President Trump announces complete disarmament of Hamas and all armed groups in Gaza. A major breakthrough for lasting peace and security! Something many said could never be achieved!
"Today, the Board of Peace reached a HISTORIC agreement for the COMPLETE… pic.twitter.com/EgJodU5TQh
— Commentary Donald J. Trump Posts From Truth Social (@TrumpDailyPosts) July 30, 2026
بورڈ آف پیس نے کہا کہ اب اگلا مرحلہ اس منصوبے پر عمل درآمد کا ہے، جس کے تحت غزہ میں مرحلہ وار نئی انتظامیہ کو مکمل اختیارات منتقل کیے جائیں گے، قانون کی حکمرانی مضبوط بنائی جائے گی، سکیورٹی بہتر ہوگی اور انسانی حالات میں بہتری لانے کے اقدامات تیز کیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد خطہ شدید جنگ، انسانی بحران اور یرغمالیوں کے مسئلے سے دوچار تھا، تاہم اب ایک سال کے دوران نمایاں پیشرفت ہوئی ہے، اگرچہ ابھی مزید کام باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر کو غزہ سے ابھرنے والے خطرے کو دوبارہ جنم لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس معاہدے کے تحت غزہ بالآخر ایسی نئی فلسطینی حکومت کے ہاتھ میں ہوگا جو اپنے عوام کی خدمت کرے گی۔
انہوں نے اس تاریخی پیشرفت پر مصر، قطر اور ترکی سمیت تمام ثالث ممالک اور اپنی مذاکراتی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یہ اہم کامیابی ممکن ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
تاہم ماہرین اس پیشرفت کو اہم قرار دینے کے باوجود اس کی کامیابی کے بارے میں محتاط ہیں۔ ان کے مطابق معاہدے کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا تمام مسلح گروہ واقعی غیر مسلح ہوتے ہیں، بین الاقوامی نگرانی مؤثر رہتی ہے اور اسرائیل بھی معاہدے کے مطابق اپنے تمام وعدے پورے کرتے ہوئے غزہ سے مکمل انخلا کرتا ہے۔
دوسری جانب غزہ میں موجود فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی سطح پر یہ ایک بڑی پیشرفت ہے، لیکن ان کے لیے اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب جنگ مکمل طور پر ختم ہوگی، حملے رک جائیں گے، بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں گے اور غزہ میں معمول کی زندگی بحال ہو جائے گی۔













