اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (UNODC) اور عالمی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں جاری متعدد بحرانوں نے افغان شہریوں کو انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت اور مختلف اقسام کے استحصال کے خطرات سے غیر معمولی حد تک دوچار کر دیا ہے۔
انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر جاری مشترکہ بیان میں دونوں اداروں نے کہا کہ افغانستان کو درپیش مسلسل معاشی، انسانی اور سماجی بحرانوں نے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے لیے افغان شہریوں کے استحصال کے امکانات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان میں 5 سال سے کم عمر 37 لاکھ بچوں کو شدید غذائی قلت کا خطرہ، یونیسیف کا الرٹ
رپورٹ کے مطابق پڑوسی ممالک سے افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر اور بعض صورتوں میں جبری واپسی، افیون پر مبنی معیشت کا خاتمہ، انسانی امداد میں شدید کمی، بار بار آنے والی قدرتی آفات اور خواتین و بچیوں کے حقوق پر عائد پابندیاں انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت کے بڑھتے ہوئے خطرات کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اقوام متحدہ کی حالیہ جائزہ رپورٹ کے مطابق وطن واپس آنے والے افغان مہاجرین انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ صرف 11 فیصد افراد کے پاس مستقل روزگار یا اپنا کاروبار ہے، جبکہ نصف سے زائد افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدید معاشی دباؤ کے باعث بہت سے خاندان قرض لینے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس سے قرض کے عوض جبری مشقت، اینٹوں کے بھٹوں، زرعی شعبے اور کان کنی جیسے غیر محفوظ کاموں میں استحصال، جبری شادیوں اور انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے القاعدہ اب بھی افغانستان میں موجود، طالبان سے روابط برقرار، اقوام متحدہ کا انکشاف
افغانستان میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم کے نمائندے پولیک اوک سری نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر انسانی اسمگلنگ کی روک تھام، متاثرین کی بروقت شناخت اور ان کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
افغانستان میں عالمی ادارہ برائے مہاجرت کی سربراہ میہیونگ پارک نے کہا کہ وطن واپس آنے والے مہاجرین کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ مقامی آبادی اور وسائل ان کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے افغانستان کے لیے مؤثر مالی تعاون، انسانی امداد اور روزگار کے مواقع فراہم نہ کیے تو بڑی تعداد میں افغان شہری دوبارہ خطرناک اور غیر قانونی ہجرت پر مجبور ہوں گے، جس سے انسانی اسمگلنگ اور استحصال کا یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کر جائے گا۔














