اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشتگردی دفتر کے قائم مقام سربراہ الیگزینڈر زویف نے کہا ہے کہ القاعدہ اب بھی افغانستان میں موجود ہے اور اس کے طالبان حکام کے ساتھ روابط برقرار ہیں، اگرچہ تنظیم کی سرگرمیوں میں ماضی کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔
روسی خبر رساں ادارے تاس کو انٹرویو دیتے ہوئے الیگزینڈر زویف نے کہا کہ افغانستان کئی دہائیوں سے مختلف شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، جہاں القاعدہ سمیت متعدد عسکریت پسند گروہ اب بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق القاعدہ کی سرگرمیاں محدود ضرور ہوئی ہیں، تاہم طالبان کے ساتھ اس کے تعلقات اب بھی پیچیدہ مگر برقرار ہیں۔
مقام سازمان ملل: القاعده در افغانستان حضور دارد و با طالبان در ارتباط است pic.twitter.com/YW4NWanh9u
— رادیو افغانستان اینترنشنال (@AFIntlRadio) July 18, 2026
ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ داعش خراسان وسطی ایشیا کے لیے سب سے بڑا سیکیورٹی خطرہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تنظیم افغانستان کی سرزمین کو خلافت کے قیام کے لیے اڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے، جبکہ دہشت گردی کے سرحد پار خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
اگرچہ روس نے حالیہ عرصے میں طالبان کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا ہے، تاہم ماسکو بدستور افغانستان سے جنم لینے والے سیکیورٹی خطرات پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی کہہ چکے ہیں کہ افغانستان سے پیدا ہونے والے خطرات کو روس نظرانداز نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں:بدخشاں میں این آر ایف کا طالبان پر حملے کا دعویٰ، 2 طالبان اہلکار ہلاک، 3 زخمی
دوسری جانب پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی نے کہا ہے کہ جب تک افغان سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہوتی رہے گی، طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش خراسان، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور بلوچ لبریشن آرمی سمیت متعدد مسلح گروہوں کی افغانستان میں موجودگی ہی ملک کی بین الاقوامی تنہائی کی ایک بڑی وجہ ہے۔














