القاعدہ اب بھی افغانستان میں موجود، طالبان سے روابط برقرار، اقوام متحدہ کا انکشاف

اتوار 19 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشتگردی دفتر کے قائم مقام سربراہ الیگزینڈر زویف نے کہا ہے کہ القاعدہ اب بھی افغانستان میں موجود ہے اور اس کے طالبان حکام کے ساتھ روابط برقرار ہیں، اگرچہ تنظیم کی سرگرمیوں میں ماضی کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔

روسی خبر رساں ادارے تاس کو انٹرویو دیتے ہوئے الیگزینڈر زویف نے کہا کہ افغانستان کئی دہائیوں سے مختلف شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، جہاں القاعدہ سمیت متعدد عسکریت پسند گروہ اب بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق القاعدہ کی سرگرمیاں محدود ضرور ہوئی ہیں، تاہم طالبان کے ساتھ اس کے تعلقات اب بھی پیچیدہ مگر برقرار ہیں۔

ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ داعش خراسان وسطی ایشیا کے لیے سب سے بڑا سیکیورٹی خطرہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تنظیم افغانستان کی سرزمین کو خلافت کے قیام کے لیے اڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے، جبکہ دہشت گردی کے سرحد پار خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

اگرچہ روس نے حالیہ عرصے میں طالبان کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا ہے، تاہم ماسکو بدستور افغانستان سے جنم لینے والے سیکیورٹی خطرات پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی کہہ چکے ہیں کہ افغانستان سے پیدا ہونے والے خطرات کو روس نظرانداز نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:بدخشاں میں این آر ایف کا طالبان پر حملے کا دعویٰ، 2 طالبان اہلکار ہلاک، 3 زخمی

دوسری جانب پاکستان کے سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی نے کہا ہے کہ جب تک افغان سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہوتی رہے گی، طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش خراسان، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور بلوچ لبریشن آرمی سمیت متعدد مسلح گروہوں کی افغانستان میں موجودگی ہی ملک کی بین الاقوامی تنہائی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نورین نیازی کے بیان پر عوام میں غم و غصہ، سیاست کی خاطر ریاست کی بے توقیری قبول نہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

نورین نیازی کے ریمارکس پاکستان مخالف، ملکی استحکام کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ نرمی نہیں برتی جائےگی، وفاقی وزرا

سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ دینے کے بل پر تنقید، طلال چوہدری کی وضاحت

سعودی وژن 2030 کے تحت پاکستانی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کا نیا راستہ، اہم تجارتی معاہدے کرلیے گئے

روس کا کیف پر اب تک کا سب سے بڑا بیلسٹک میزائل حملہ، 2 ہلاک، 16 زخمی

ویڈیو

اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کی ایران پر شدید بمباری، تہران کا انتقام کا اعلان، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

’محدود بجٹ میڈیا انڈسٹری کے لیے بڑا چیلنج بن گیا‘

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

کالم / تجزیہ

ایک اور تحریک وکلا: ہماری توبہ، ہمیں معاف رکھیں

گیری سوبرز: ایک بے بدل کرکٹر کو الوداع

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ