افغانستان میں 5 سال سے کم عمر 37 لاکھ بچوں کو شدید غذائی قلت کا خطرہ، یونیسیف کا الرٹ

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یعنی یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں سالانہ شدید غذائی قلت کے موسم کے آغاز سے قبل ہی 5 سال سے کم عمر تقریباً 37 لاکھ بچوں کو غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔

جبکہ خوراک کی عدم دستیابی اور بنیادی صحت کی سہولیات تک محدود رسائی ملک میں غذائی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں بچوں کو گرمی سے شدید خطرہ لاحق ہے، یونیسیف

یونیسیف کی نئی رپورٹ ’بہت تاخیر سے، بہت کم: افغانستان کے کم عمر بچوں کو درپیش غذائی بحران‘ کے مطابق 6 سے 59 ماہ عمر کے 47 فیصد بچے درمیانے یا شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

یونیسیف کے مطابق افغانستان میں 37 لاکھ سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹ افغانستان کے تمام 34 صوبوں میں 37 ہزار سے زائد بچوں سے جمع کیے گئے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں 26 صوبوں میں بچوں کی غذائی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے، جو ایک گہرے اور تیزی سے بڑھتے ہوئے بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5 سال سے کم عمر 10.3 فیصد بچے ویسٹنگ یعنی غذائی قلت کی انتہائی خطرناک اور جان لیوا کیفیت میں مبتلا ہیں، جبکہ تقریباً نصف بچے طویل المدتی غذائی کمی کے باعث جسمانی نشوونما میں رکاوٹ کا شکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً 90 فیصد کم عمر بچے غذائی غربت کا شکار ہیں اور روزانہ صرف ایک یا 2 اقسام کی خوراک استعمال کر رہے ہیں، جو صحت مند نشوونما کے لیے ناکافی ہے۔

مزید پڑھیں: یونیسیف نے صبا قمر کو پاکستان میں بچوں کے حقوق کا سفیر مقرر کردیا

یونیسیف نے کہا کہ 2 سال سے کم عمر بچے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ شدید غذائی قلت کے 83 فیصد اور درمیانی درجے کی غذائی قلت کے 77 فیصد کیسز اسی عمر کے بچوں میں سامنے آ رہے ہیں۔

ان کے مطابق جب خاندان کھانے کی مقدار کم کرنے یا غذائیت سے بھرپور غذا ترک کرنے پر مجبور ہو جائیں تو یہ صرف معاشی مشکلات کی علامت نہیں بلکہ اس بات کا واضح اشارہ ہوتا ہے کہ بچے جلد ہی جان لیوا غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شدید غذائی عدم تحفظ والے گھروں میں رہنے والے بچوں کے جولائی سے ستمبر کے دوران ویسٹنگ کا شکار ہونے کے امکانات خوراک کے لحاظ سے محفوظ خاندانوں کے بچوں کے مقابلے میں تقریباً 6 گنا زیادہ ہیں، جبکہ درمیانے درجے کے غذائی عدم تحفظ سے متاثرہ بچوں میں بھی یہ خطرہ 3 گنا سے زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان: خواتین پر کریک ڈاؤن، سرکاری لباس ضابطے کی خلاف ورزی کے الزام میں درجنوں گرفتار

یونیسیف نے واضح کیا کہ بحران صرف خوراک کی کمی تک محدود نہیں بلکہ وبائی امراض، ویکسینیشن کی کم شرح، صاف پانی اور صفائی کی ناکافی سہولیات اور امدادی فنڈز میں مسلسل کمی بھی بچوں کی صحت کو متاثر کر رہی ہے اور انہیں غذائی قلت کے مزید خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔

ادارے کے مطابق امدادی فنڈز میں کمی کے باعث افغانستان بھر میں سینکڑوں صحت اور غذائیت مراکز اپنی خدمات محدود یا معطل کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جس سے متاثرہ خاندانوں کے لیے علاج اور احتیاطی سہولیات تک رسائی مزید مشکل ہو گئی ہے۔

یونیسیف نے زور دیا کہ صرف شدید بیمار بچوں کے علاج پر توجہ دینے کے بجائے غذائی قلت کی بروقت روک تھام کو ترجیح دی جائے، اس مقصد کے لیے بچوں اور ماؤں کی بہتر غذائیت، معیاری خوراک اور مقامی سطح پر صحت کی مضبوط سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں آزادانہ انتخابات ہوں تو طالبان شکست کھا جائیں گے، احمد مسعود کا دعویٰ

ادارے نے عالمی برادری اور عطیہ دہندگان سے فوری اور لچکدار مالی معاونت فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ غذائیت کے پروگراموں، صحت کی سہولیات، صاف پانی، صفائی کے نظام اور ’فرسٹ فوڈز انیشی ایٹو‘ کو وسعت دی جائے، جو 6 سے 23 ماہ عمر کے ان بچوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے جو غذائی قلت کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔

یونیسیف کے مطابق یہ افغانستان میں اپنی نوعیت کا پہلا ملک گیر سروے ہے جس میں بچوں میں غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کا بیک وقت جائزہ لیا گیا ہے، جس سے ایسے بچوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی جنہیں جان لیوا حالت تک پہنچنے سے پہلے ہی امداد فراہم کی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت، وزیراعظم شہباز شریف کا ریاض کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار

شہدا کے خلاف ہرزہ سرائی قومی یکجہتی اور قومی مفاد کے منافی ہے، شرجیل انعام میمن کا شدید ردعمل

سونے کی قیمت میں مزید بڑی کمی، فی تولہ کتنے ہزار روپے سستا ہو گیا؟

فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیر مناسب ہے، بیرسٹر دانیال چوہدری

آزاد کشمیر میں کشیدگی کا حل مذاکرات ہیں، فریقین پیچھے ہٹیں، خواجہ سعد رفیق

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم