اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یعنی یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں سالانہ شدید غذائی قلت کے موسم کے آغاز سے قبل ہی 5 سال سے کم عمر تقریباً 37 لاکھ بچوں کو غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔
جبکہ خوراک کی عدم دستیابی اور بنیادی صحت کی سہولیات تک محدود رسائی ملک میں غذائی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں بچوں کو گرمی سے شدید خطرہ لاحق ہے، یونیسیف
یونیسیف کی نئی رپورٹ ’بہت تاخیر سے، بہت کم: افغانستان کے کم عمر بچوں کو درپیش غذائی بحران‘ کے مطابق 6 سے 59 ماہ عمر کے 47 فیصد بچے درمیانے یا شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
یونیسیف کے مطابق افغانستان میں 37 لاکھ سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹ افغانستان کے تمام 34 صوبوں میں 37 ہزار سے زائد بچوں سے جمع کیے گئے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔
About 3.7 million #Afghan children are suffering from severe food insecurity: UNICEF report#RadioPakistan #news #Afghanistan https://t.co/cueLqaT4Pf pic.twitter.com/nfw7Sy18AJ
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) July 14, 2026
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں 26 صوبوں میں بچوں کی غذائی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے، جو ایک گہرے اور تیزی سے بڑھتے ہوئے بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5 سال سے کم عمر 10.3 فیصد بچے ویسٹنگ یعنی غذائی قلت کی انتہائی خطرناک اور جان لیوا کیفیت میں مبتلا ہیں، جبکہ تقریباً نصف بچے طویل المدتی غذائی کمی کے باعث جسمانی نشوونما میں رکاوٹ کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 90 فیصد کم عمر بچے غذائی غربت کا شکار ہیں اور روزانہ صرف ایک یا 2 اقسام کی خوراک استعمال کر رہے ہیں، جو صحت مند نشوونما کے لیے ناکافی ہے۔
مزید پڑھیں: یونیسیف نے صبا قمر کو پاکستان میں بچوں کے حقوق کا سفیر مقرر کردیا
یونیسیف نے کہا کہ 2 سال سے کم عمر بچے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ شدید غذائی قلت کے 83 فیصد اور درمیانی درجے کی غذائی قلت کے 77 فیصد کیسز اسی عمر کے بچوں میں سامنے آ رہے ہیں۔
ان کے مطابق جب خاندان کھانے کی مقدار کم کرنے یا غذائیت سے بھرپور غذا ترک کرنے پر مجبور ہو جائیں تو یہ صرف معاشی مشکلات کی علامت نہیں بلکہ اس بات کا واضح اشارہ ہوتا ہے کہ بچے جلد ہی جان لیوا غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شدید غذائی عدم تحفظ والے گھروں میں رہنے والے بچوں کے جولائی سے ستمبر کے دوران ویسٹنگ کا شکار ہونے کے امکانات خوراک کے لحاظ سے محفوظ خاندانوں کے بچوں کے مقابلے میں تقریباً 6 گنا زیادہ ہیں، جبکہ درمیانے درجے کے غذائی عدم تحفظ سے متاثرہ بچوں میں بھی یہ خطرہ 3 گنا سے زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان: خواتین پر کریک ڈاؤن، سرکاری لباس ضابطے کی خلاف ورزی کے الزام میں درجنوں گرفتار
یونیسیف نے واضح کیا کہ بحران صرف خوراک کی کمی تک محدود نہیں بلکہ وبائی امراض، ویکسینیشن کی کم شرح، صاف پانی اور صفائی کی ناکافی سہولیات اور امدادی فنڈز میں مسلسل کمی بھی بچوں کی صحت کو متاثر کر رہی ہے اور انہیں غذائی قلت کے مزید خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔
ادارے کے مطابق امدادی فنڈز میں کمی کے باعث افغانستان بھر میں سینکڑوں صحت اور غذائیت مراکز اپنی خدمات محدود یا معطل کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جس سے متاثرہ خاندانوں کے لیے علاج اور احتیاطی سہولیات تک رسائی مزید مشکل ہو گئی ہے۔
یونیسیف نے زور دیا کہ صرف شدید بیمار بچوں کے علاج پر توجہ دینے کے بجائے غذائی قلت کی بروقت روک تھام کو ترجیح دی جائے، اس مقصد کے لیے بچوں اور ماؤں کی بہتر غذائیت، معیاری خوراک اور مقامی سطح پر صحت کی مضبوط سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں آزادانہ انتخابات ہوں تو طالبان شکست کھا جائیں گے، احمد مسعود کا دعویٰ
ادارے نے عالمی برادری اور عطیہ دہندگان سے فوری اور لچکدار مالی معاونت فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ غذائیت کے پروگراموں، صحت کی سہولیات، صاف پانی، صفائی کے نظام اور ’فرسٹ فوڈز انیشی ایٹو‘ کو وسعت دی جائے، جو 6 سے 23 ماہ عمر کے ان بچوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے جو غذائی قلت کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔
یونیسیف کے مطابق یہ افغانستان میں اپنی نوعیت کا پہلا ملک گیر سروے ہے جس میں بچوں میں غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کا بیک وقت جائزہ لیا گیا ہے، جس سے ایسے بچوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی جنہیں جان لیوا حالت تک پہنچنے سے پہلے ہی امداد فراہم کی جا سکے۔













