افغانستان جرنلسٹس سینٹر نے بتایا ہے کہ افغان صحافی بشیر ہاتف کو طالبان کی جیل میں ایک سال قید رہنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے اور وہ کابل میں اپنے اہلِخانہ سے جا ملے ہیں۔
مزید پڑھیں:افغانستان کا بحران انسانی اسمگلنگ کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے، اقوام متحدہ
ادارے کے مطابق طالبان کی ایک فوجی عدالت نے گزشتہ سال بشیر ہاتف کو طالبان حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔ انہیں 23 جولائی 2025 کو کابل سے طالبان کی انٹیلیجنس اور امر بالمعروف فورسز نے 2 دیگر صحافیوں، شکیب احمد نظری اور ابوذر سرمل سرِپولی، کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔

افغانستان جرنلسٹس سینٹر کے مطابق شکیب احمد نظری اور ابوذر سرمل سرِپولی اب بھی قید میں ہیں اور اپنی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔
ادارے نے بشیر ہاتف کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گرفتاری اور بغیر وکیل کے فوجی عدالت میں مقدمہ چلانا ان کے انسانی اور پیشہ ورانہ حقوق کی خلاف ورزی تھی۔
مزید پڑھیں:افغانستان: سرِ پل میں حملہ، طالبان انٹیلیجنس افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک، مزاحمتی کارروائیوں میں اضافہ
تنظیم نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ دیگر قید صحافیوں کو بھی رہا کیا جائے اور میڈیا کو دھمکیوں اور گرفتاری کے خوف کے بغیر آزادانہ کام کرنے کی اجازت دی جائے۔













