طالبان کی قید میں ایک سال گزارنے کے بعد افغان صحافی بشیر ہاتف رہا

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان جرنلسٹس سینٹر نے بتایا ہے کہ افغان صحافی بشیر ہاتف کو طالبان کی جیل میں ایک سال قید رہنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے اور وہ کابل میں اپنے اہلِخانہ سے جا ملے ہیں۔

مزید پڑھیں:افغانستان کا بحران انسانی اسمگلنگ کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے، اقوام متحدہ

ادارے کے مطابق طالبان کی ایک فوجی عدالت نے گزشتہ سال بشیر ہاتف کو طالبان حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔ انہیں 23 جولائی 2025 کو کابل سے طالبان کی انٹیلیجنس اور امر بالمعروف فورسز نے 2 دیگر صحافیوں، شکیب احمد نظری اور ابوذر سرمل سرِپولی، کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔

افغانستان جرنلسٹس سینٹر کے مطابق شکیب احمد نظری اور ابوذر سرمل سرِپولی اب بھی قید میں ہیں اور اپنی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔

ادارے نے بشیر ہاتف کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گرفتاری اور بغیر وکیل کے فوجی عدالت میں مقدمہ چلانا ان کے انسانی اور پیشہ ورانہ حقوق کی خلاف ورزی تھی۔

مزید پڑھیں:افغانستان: سرِ پل میں حملہ، طالبان انٹیلیجنس افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک، مزاحمتی کارروائیوں میں اضافہ

تنظیم نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ دیگر قید صحافیوں کو بھی رہا کیا جائے اور میڈیا کو دھمکیوں اور گرفتاری کے خوف کے بغیر آزادانہ کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا