افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان کی فوج کے سربراہ جنرل فصیح الدین فطرت کے گھر پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا، تاہم فائرنگ کے تبادلے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق واقعہ جمعرات کی شام ضلع وردوج کے گاؤں استراب میں پیش آیا، جہاں حملہ آوروں نے قریبی پہاڑی سے جنرل فصیح الدین فطرت کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کے وقت وہ گھر میں موجود تھے یا نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں، جن میں پی کے مشین گنیں بھی شامل تھیں، سے فائرنگ کی۔ رہائش گاہ پر تعینات محافظوں نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دونوں جانب مختصر وقت تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔
Local sources in Badakhshan say the home of Fasihuddin Fitrat, the Taliban’s army chief of staff, was attacked on Thursday evening in Wurduj district. It is unclear whether he was there at the time.https://t.co/kMjwAoR3tF pic.twitter.com/z6ZuDQAWFV
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 31, 2026
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں کسی جانی نقصان یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بدخشان میں طالبان اور حکومت مخالف مسلح گروہوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے سپاہِ میہن فرنٹ نے مختصر وقت کے لیے ضلع یفتل پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے بھی ضلع زیبک میں طالبان کی پوزیشنوں پر حملوں کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان کی قید میں ایک سال گزارنے کے بعد افغان صحافی بشیر ہاتف رہا
ذرائع کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد طالبان فوج کے سربراہ جنرل فصیح الدین فطرت خود بدخشان پہنچ گئے تھے اور حکومت مخالف گروہوں کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کی نگرانی سنبھال لی تھی۔
چند روز قبل بدخشان میں طالبان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ بھی نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد طالبان نے صوبے میں مزید نفری تعینات کر دی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق بدخشان میں سکیورٹی صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔














