برطانیہ میں جدید مرحلے کے بیضہ دانی کے کینسر میں مبتلا ایک خاتون دنیا کی پہلی مریضہ بن گئی ہیں جنہیں ایک نئی اور تجرباتی کینسر تھراپی دی گئی ہے، جسے ماہرین نے علاج کے میدان میں ایک ’اہم سنگ میل‘ قرار دیا ہے۔
58 سالہ ٹریسی ٹاملنسن کو مانچسٹر کے کرسٹی این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ میں ZI-MA4-1 نامی دوا دی گئی۔ یہ علاج ایک کلینیکل ٹرائل کا حصہ ہے، جس میں مختلف اقسام کے کینسر کے لیے ایک نئی طرز کی تھراپی کی افادیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس تجرباتی علاج کو بیضہ دانی کے کینسر کے علاوہ پھیپھڑوں کے کینسر، سارکوما (ہڈیوں اور نرم بافتوں کے کینسر) اور سر و گردن کے کینسر کے مریضوں پر بھی آزمایا جائے گا۔ تحقیق میں شامل کئی مریض ایسے ہیں جن کے پاس علاج کے دیگر محدود امکانات باقی رہ گئے ہیں۔
ٹریسی ٹاملنسن کو 2020 میں بیضہ دانی کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ وہ سرجری اور کیموتھراپی کے کئی مراحل سے گزر چکی ہیں، تاہم علاج کے باوجود کینسر بار بار واپس آتا رہا۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا کی پہلی مریضہ کے طور پر یہ تھراپی حاصل کرنا کچھ خوف کا باعث ضرور تھا، لیکن جب گزشتہ سال انہیں اس آزمائش کے لیے موزوں قرار دیا گیا تو انہوں نے تقریباً فوری طور پر اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
ٹریسی کا کہنا تھا، ’اگر اس علاج سے مجھے فائدہ ہوتا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہوگی، لیکن اگر اس سے مستقبل میں دوسرے مریضوں کو فائدہ پہنچتا ہے تو یہ بھی میرے لیے بہت اہم ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ میں نے جو کچھ برداشت کیا وہ بے مقصد ہو۔ میں محسوس کرنا چاہتی ہوں کہ میں نے کوئی مثبت تبدیلی لائی ہے۔‘
اعداد و شمار کے مطابق بیضہ دانی کے کینسر کی تشخیص کے بعد صرف تقریباً 15 فیصد خواتین 5 سال یا اس سے زیادہ عرصہ زندہ رہ پاتی ہیں۔ گزشتہ ماہ برطانیہ میں 2 دہائیوں بعد پہلی بار بیضہ دانی کے کینسر کے لیے ایک نئی دوا کو این ایچ ایس میں استعمال کی منظوری دی گئی تھی۔
مدافعتی نظام کو کینسر کے خلاف استعمال کرنے والی تھراپی
ZI-MA4-1 تھراپی کینسر کے خلاف جنگ کے لیے دو طاقتور طریقوں کو یکجا کرتی ہے۔ اس میں جسم کے قدرتی قاتل خلیات (Natural Killer Cells) استعمال کیے جاتے ہیں، جو مدافعتی نظام کے خصوصی خلیے ہوتے ہیں اور غیر معمولی خلیات کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان خلیات کے ٹی سیل ریسیپٹرز (TCRs) کو جینیاتی طور پر تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ وہ ایسے ٹیومرز کو شناخت کر سکیں جو Mage-A4 نامی پروٹین پیدا کرتے ہیں۔ یہ پروٹین کئی اقسام کے کینسر میں پایا جاتا ہے اور ماہرین کے مطابق کینسر کے خلیات کو نشانہ بنانے کے لیے ایک مؤثر ہدف ثابت ہو سکتا ہے۔
دیگر کئی ذاتی نوعیت کے کینسر علاج کے برعکس ZI-MA4-1 کو ’آف دی شیلف تھراپی‘ کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، یعنی اسے ہر مریض کے لیے الگ سے تیار کرنے کے بجائے عطیہ دہندگان کے مدافعتی خلیات سے پہلے ہی تیار کیا جا سکتا ہے۔ ایک ہی تیاری کے عمل سے سینکڑوں خوراکیں تیار کی جا سکتی ہیں۔
کرسٹی اسپتال کے ماہر کینسر ڈاکٹر جون کم نے بتایا کہ ٹریسی کو دراصل کسی دوسرے شخص کے ایسے مدافعتی خلیات دیے جا رہے ہیں جنہیں جینیاتی طور پر تبدیل کرکے اس قابل بنایا گیا ہے کہ وہ ان کے کینسر کو پہچان سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ علاج کامیاب ثابت ہوا تو جدید سیل تھراپیز زیادہ مریضوں تک تیزی سے اور کم لاگت میں پہنچائی جا سکیں گی۔
کرسٹی اسپتال کی ماہر کینسر پروفیسر فیونا تھسل ویتھ نے کہا کہ اگرچہ یہ تحقیق ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم یہ کینسر کے علاج میں ایک امید افزا قدم ہے۔
ZI-MA4-1 تیار کرنے والی ناروے کی کمپنی زیلونا (Zelluna) کے چیف ایگزیکٹو نامیر حسن نے ٹریسی کو پہلی خوراک دیے جانے کو ’اہم سنگ میل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تھراپی ایسے مریضوں کے لیے ایک نئی ممکنہ امید بن سکتی ہے جن کے پاس جدید مرحلے کے کینسر میں علاج کے محدود آپشنز موجود ہیں۔














