بھارت کی ریاست بہار میں سیلاب، 50 لاکھ افراد متاثر

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی مشرقی ریاست بہار میں سیلاب سے تقریباً 50 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ شدید بارشوں کے بعد ریاست کے تمام 7 اہم دریاؤں میں پانی خطرے کی سطح سے اوپر پہنچ گیا ہے۔

ریاست کے آبی وسائل کے محکمے کے مطابق منگل کو تمام 7 اہم دریاؤں میں پانی خطرے کی سطح سے بلند ریکارڈ کیا گیا۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں سیلاب کی تباہ کاریاں: 5 ہلاکتیں، 10 ہزار افراد کی نقل مکانی

بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار چودھری نے بیان میں کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو خوراک، صاف پینے کا پانی، ادویات اور دیگر ضروری سہولیات مسلسل فراہم کی جا رہی ہیں۔

وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے بتایا کہ ریاست میں سیلاب سے متاثرہ 8 لاکھ 27 ہزار سے زائد خاندانوں کو فی خاندان 7 ہزار بھارتی روپے منتقل کیے جا چکے ہیں۔

بہار کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے تقریباً 50 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ہر متاثرہ خاندان تک سیلاب سے متعلق امداد پہنچانا اور تعمیر نو کا کام بہتر انداز میں مکمل کرنا ہے۔

سیلاب رواں ماہ شروع ہوا تھا اور مقامی میڈیا کے مطابق سیلاب کے باعث 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ حکام نے بتایا کہ زرعی اراضی کا وسیع رقبہ زیر آب آگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست بہار میں سیلابی پانی سے پکڑی گئی مچھلی کھانے پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟

نیپال کے نشیبی علاقے میں واقع بہار گزشتہ ماہ تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنے والے نیپال کے بعد دریاؤں میں آنے والے پانی سے بھی متاثر ہوا ہے۔

ریاست کے ضلع سارن کے رہائشی 46 سالہ چندن کمار ماہتو نے کہا کہ ہر سال سیلاب کا سامنا کرنا ان کی قسمت بن چکا ہے۔ ان کے مطابق لوگ خوراک، صاف پینے کے پانی اور بچوں کے لیے دودھ کے حصول کے لیے مشکلات کا شکار ہیں۔

بہار کی حکومت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت متعدد جماعتیں شامل ہیں۔ حکومت کے مطابق سیلاب متاثرین کے لیے 13 امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ایک ہزار سے زائد اجتماعی باورچی خانے اور تقریباً ایک ہزار 800 کشتیاں بھی سیلاب زدہ علاقوں میں تعینات کی گئی ہیں۔

حکام کے مطابق نریندر مودی نے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے مرکزی حکومت کی ایک ٹیم بہار بھیجی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت اور نیپال میں مون سون کی تباہ کاریاں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے درجنوں ہلاکتیں

ریاست ویشالی کی 42 سالہ لکھمنیا دیوی نے بتایا کہ سیلابی پانی گھر میں داخل ہونے کے بعد وہ اور ان کا خاندان چھت پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ ان کے مطابق خاندان کے پاس کھانا پکانے کے لیے باورچی خانہ نہیں رہا اور زندہ رہنے کے لیے آلودہ پانی پینا پڑ رہا ہے۔

ضلع بھاگلپور کے گھوگھا گاؤں سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ مزدور ہری منڈل نے کہا کہ وہ کام نہیں کر پا رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیلاب مزید عرصے تک جاری رہا تو ان کے پاس کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں بچے گا کیونکہ زندگی گزارنے کے لیے جمع کی گئی رقم ختم ہو چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp