افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، کارروائیوں کا دائرہ کئی صوبوں تک پھیل گیا

پیر 3 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک نئی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے تقریباً پانچ سال بعد افغانستان میں مسلح مزاحمت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان مخالف سرگرمیاں اب صرف چھاپہ مار حملوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں نئی مزاحمتی تنظیمیں سامنے آ رہی ہیں، مختلف گروہوں کے درمیان تعاون بڑھ رہا ہے اور کارروائیاں پہلے سے زیادہ منظم اور مؤثر ہوتی جا رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ طالبان حکومت خود کو افغانستان کی بلا شرکتِ غیرے حکمران قوت قرار دیتی ہے، تاہم زمینی حقائق اس دعوے سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ طالبان مخالف مزاحمت اب ایک مستقل مسلح تحریک کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جو متعدد صوبوں میں طالبان کی عمل داری کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ خاص طور پر شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں مزاحمتی سرگرمیوں کے پھیلاؤ سے طالبان کے مکمل علاقائی کنٹرول کا بیانیہ کمزور پڑ رہا ہے۔

بدخشاں مزاحمت کا نیا مرکز

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدخشاں صوبہ طالبان مخالف تحریک کا سب سے اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔ یہاں طالبان کی چوکیوں پر بار بار حملے، مقامی سطح پر حمایت میں اضافہ، نئی مزاحمتی تنظیموں کا قیام اور تاجکستان سے قربت اس صوبے کو مزاحمت کے لیے نہایت موزوں خطہ بنا رہے ہیں۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور طالبان مخالف جذبات کو بھی مزاحمت کی مضبوطی کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔

مزاحمت کا دائرہ کئی صوبوں تک پھیل گیا

رپورٹ کے مطابق طالبان مخالف کارروائیاں اب صرف پنج شیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں بلکہ کابل، بغلان، تخار، قندوز، پروان، کاپیسا، بدخشاں، بلخ، ہرات اور دیگر کئی صوبوں میں بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اس پیشرفت کو مقامی مزاحمت سے ملک گیر شورش کی جانب اہم تبدیلی قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث طالبان کو بیک وقت کئی محاذوں پر اپنی فورسز تعینات کرنا پڑ رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے اعداد و شمار

رپورٹ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی سولہویں رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنوری سے جولائی 2025 کے دوران نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) نے 73 جبکہ افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) نے 43 حملے کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار طالبان کی مسلسل انسدادِ شورش کارروائیوں کے باوجود مزاحمتی گروہوں کی فعال صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

اسی طرح 2024 کے دوران افغانستان فریڈم فرنٹ نے 83 جبکہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے 261 حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔

کارروائیوں میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے مارچ 2024 سے مارچ 2025 کے درمیان 19 صوبوں میں 401 ٹارگیٹڈ کارروائیاں کیں، جبکہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے اسی عرصے میں 87 کارروائیوں اور اپنی تنظیمی موجودگی کو 31 صوبوں تک وسعت دینے کا دعویٰ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار مزاحمتی تنظیموں کے بڑھتے ہوئے اعتماد، بھرتیوں اور طالبان پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔

مختلف گروہوں کے درمیان تعاون

رپورٹ کے مطابق اپریل 2024 میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود اور افغانستان فریڈم فرنٹ کے رہنما یاسین ضیا نے مزاحمتی کوششوں کو مربوط بنانے اور باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں تنظیموں نے متعدد مواقع پر طالبان کے انٹیلی جنس مراکز، چیک پوسٹوں اور فوجی تنصیبات کو بیک وقت نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق فروری اور اپریل 2026 میں دونوں گروہوں نے الگ الگ بدخشاں کے ضلع بہارک اور ملحقہ علاقوں میں طالبان کی پوزیشنوں پر حملے کیے، جبکہ جولائی 2026 میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے ضلع راغ میں طالبان بریگیڈ پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 2 طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت اور فوجی سازوسامان تباہ کرنے کا اعلان کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مزاحمت اب وقتی حملوں کے بجائے ایک منظم مہم کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

نئی مزاحمتی تنظیموں کا ظہور

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2026 کے دوران نیشنل موبلائزیشن فرنٹ (NMF) بھی منظر عام پر آیا ہے، جس میں سابق افغان قومی دفاعی و سلامتی فورسز (ANDSF) کے اہلکار، نوجوان کارکن اور مقامی جنگجو شامل ہیں۔ اس پیشرفت کو طالبان مخالف تحریک کے زیادہ وسیع، غیر مرکزی اور مضبوط ہونے کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح سپاہیانِ میہن نامی ایک نئی تنظیم کے قیام کو بھی طالبان مخالف اتحاد کے لیے اہم پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 17 جولائی 2026 کو اس گروپ نے ضلع یفتل میں مربوط حملہ کرتے ہوئے مختصر وقت کے لیے علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا، طالبان اہلکاروں کو غیر مسلح کیا، اسلحہ اور فوجی سازوسامان قبضے میں لیا، سرکاری عمارتوں پر قبضہ کیا اور مزاحمت کا پرچم لہرایا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی 2021 کے بعد طالبان کو پیش آنے والے بڑے عسکری دھچکوں میں شمار کی جا رہی ہے۔

طالبان کو درپیش اندرونی چیلنجز

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے اندرونی اختلافات، مختلف دھڑوں کی کشمکش، نسلی شکایات، معاشی بحران، عوامی اعتماد میں کمی اور سابق فوجی اہلکاروں کی بے چینی بھی مزاحمتی گروہوں کے لیے بھرتیوں کے مواقع پیدا کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مزاحمتی تنظیموں کی ہر کامیاب کارروائی طالبان کے ملک گیر استحکام کے دعوے کو کمزور کرتی ہے اور انہیں حکمرانی کے بجائے داخلی سلامتی پر زیادہ وسائل اور افرادی قوت صرف کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

مستقبل کی صورتحال

رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو شمالی افغانستان میں طالبان کی گرفت بتدریج کمزور ہو سکتی ہے، جبکہ بدخشاں وہ صوبہ بن سکتا ہے جہاں سب سے پہلے طالبان کا کنٹرول سنجیدہ چیلنج سے دوچار ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp