بی بی سی کی رپورٹ حقائق کے منافی، الزامات گمراہ کن پروپیگنڈا ہیں: سیکریٹری اطلاعات آزاد کشمیر

پیر 3 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سیکریٹری اطلاعات آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر محمد راشد حنیف نے کہا ہے کہ حکومت آزاد جموں و کشمیر ایک معروف عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی کی جانب سے گزشتہ روز آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے جاری کی گئی رپورٹ کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کرتی ہے۔

مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہوئے انہوں نے کہاکہ رپورٹ میں پیش کیے گئے حقائق اور اعداد و شمار نہ صرف غلط ہیں بلکہ انہیں کسی بھی متعلقہ حکومتی ادارے، یعنی پولیس اور سول ایڈمنسٹریشن سے تصدیق یا تردید کیے بغیر جاری کیا گیا، جو صحافتی آداب اور پیشہ ورانہ تقاضوں کے بھی خلاف ہے۔

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے الزامات بے بنیاد قرار

محمد راشد حنیف نے کہاکہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے راولاکوٹ اور اس کے نواحی علاقوں میں 27 سے 31 جولائی کے دوران پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے لگائے گئے الزامات جھوٹے، گمراہ کن اور منظم مس انفارمیشن مہم کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہاکہ یہ الزامات حقائق کے منافی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مسلح جتھوں کی منظم کارروائیوں کے ذریعے امن عامہ اور ریاستی رٹ کو ختم کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

مسلح کارروائیوں میں اہلکار شہید و زخمی ہوئے

سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی حالیہ مسلح کارروائیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شہید اور زخمی ہوئے، جبکہ پولیس اور رینجرز کی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا گیا اور نقصان پہنچایا گیا۔

انہوں نے کہاکہ کالعدم کمیٹی کے ارکان کے پاس اسلحہ کی موجودگی کے شواہد 27 جولائی کو نمائندہ اے جے کے پولیس مظفرآباد کی پریس کانفرنس میں پیش کیے جا چکے ہیں۔

ان کے مطابق انہی ہتھیاروں کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 7 اہلکار شہید، 45 سے زیادہ زخمی جبکہ متعدد اہلکار معمولی زخمی ہوئے، جو اس امر کی تصدیق ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنے اندر بڑی تعداد میں مسلح عناصر کو پناہ دیے ہوئے ہے اور ریاستی رٹ اور امن عامہ کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔

2024 اور 2025 کے واقعات کا حوالہ

محمد راشد حنیف نے کہاکہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے اسلحہ اور تشدد کا استعمال کوئی نئی بات نہیں بلکہ ماضی قریب میں بھی اس تنظیم کی سرگرمیوں میں تشدد نمایاں رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سال 2025 میں تنظیم کے تشدد کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تین اہلکار شہید، 52 شدید زخمی اور 350 سے زائد معمولی زخمی ہوئے، جبکہ سال 2024 میں ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اور قریباً 60 شدید زخمی ہوئے، اور یہ تمام واقعات گن فائرنگ کا نتیجہ تھے۔

سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ حال ہی میں تنظیم کے 2 مسلح کارندوں کے اعترافی بیانات میں یہ اقرار کیا گیا کہ انہیں رینجرز کے ایک اہلکار کو قتل کرنے کے عوض ایک کروڑ روپے انعام دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس انکشاف سے تنظیم کی مالی معاونت کے ذرائع کے حوالے سے تشویشناک سوالات جنم لیتے ہیں۔

بی بی سی کو مصدقہ شواہد بھی مدنظر رکھنے چاہییں تھے

محمد راشد حنیف نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر کے اداروں کی جانب سے تنظیم کے پاس جدید اسلحہ کی موجودگی کے شواہد ویڈیوز اور پریس ریلیز کی صورت میں جاری کیے جا چکے ہیں، اس لیے بی بی سی کو اپنی رپورٹ میں ان مصدقہ شواہد کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔

بلااشتعال فائرنگ اور لاشیں رکھنے کے الزامات مسترد

انہوں نے کہاکہ حکومت آزاد کشمیر کے سیکیورٹی اداروں نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتہائی تحمل اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔

ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ، لاشیں اپنی تحویل میں رکھنے یا تشدد کے الزامات درست نہیں ہیں، جبکہ حکومت آزاد کشمیر کے کسی بھی ادارے کے پاس اس وقت کوئی لاش موجود نہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے کالعدم تنظیم سے منسلک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کیا جانے والا پروپیگنڈا گمراہ کن ہے۔

راستوں کی بندش اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں رکاوٹ کے ثبوت موجود ہیں

سیکریٹری اطلاعات نے کہاکہ کالعدم تنظیم کی جانب سے راستوں کی بندش، اشیائے خوردونوش لے جانے والی گاڑیوں کو روکنے یا نذر آتش کرنے کے دستاویزی اور مصدقہ شواہد موجود ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس کے برعکس قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے۔

محمد راشد حنیف نے کہاکہ 5 جون کا واقعہ بھی بنیادی طور پر کالعدم تنظیم کی جانب سے کیے گئے مسلح حملے کے جواب میں پیش آیا، جس کے بعد حکومت نے تنظیم کو کالعدم قرار دیا۔

انہوں نے کہاکہ انہی حقائق کے پیش نظر حکومت آزاد کشمیر نے تنظیم کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا تاکہ امن و امان، ریاستی رٹ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، کیونکہ کوئی بھی تنظیم یا فرد ریاست اور قانون سے بالاتر نہیں۔

سرکاری مؤقف پولیس کے ایکس اکاؤنٹ پر موجود ہے

سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ اس معاملے پر حکومت آزاد کشمیر کا سرکاری مؤقف اور متعلقہ اعداد و شمار محکمہ پولیس حکومت آزاد کشمیر کے ایکس اکاؤنٹ پر دستیاب ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp