امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا ایران پر نئے حملے سے گریز، تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کمی
حالانکہ ایران مسلسل اس کی تردید کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ ایران چاہے اس کا اعتراف کرے یا نہ کرے دونوں ممالک ایک ایسے مسئلے کے حل پر بات کر رہے ہیں جو ان کے بقول کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت پر دوہرا رویہ اختیار کرنے کا الزام بھی لگایا۔
واضح رہے کہ ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکا کے ساتھ کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے اور موجودہ بات چیت صرف آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے حوالے سے عمان کے ساتھ جاری ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاملہ بالآخر 2 ہی صورتوں میں انجام کو پہنچے گا یا کوئی معاہدہ ہوگا یا پھر’مکمل سرنڈر‘ ہوگا (ایران کی جانب سے)۔ انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ امریکا کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ وہ صرف عمان کے ساتھ اس اہم بحری گزرگاہ پر بات کر رہا ہے کیونکہ ان کے بقول اس علاقے پر امریکی بحریہ کی نگرانی موجود ہے۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) August 3, 2026
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کر رہا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ رابطے صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ہیں اور امریکا کے ساتھ کسی نئی بات چیت کا آغاز نہیں ہوا۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی کی اطلاعات
دوسری جانب ترک خبر رساں ادارے انادولو نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان اور قطر دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ براہ راست مذاکرات کے لیے تاریخ اور مقام طے کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اور دوحہ ان ممکنہ مقامات میں شامل ہیں جہاں مستقبل میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہو سکتے ہیں۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بحال کرنے کی کوششیں
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے بھی کہا ہے کہ ثالث ممالک جون میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا باعث بننے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم مسئلہ آبنائے ہرمز ہے، اسی لیے مختلف فریقوں کے درمیان مسلسل رابطے اور تبادلۂ خیال جاری ہے۔
اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کے روز ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke today with the Foreign Minister of Iran, Seyyed Abbas Araghchi.
They exchanged views on regional and international developments, including the deteriorating situation in Occupied East… pic.twitter.com/KHA2I5OctV
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 3, 2026
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جبکہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کو جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔
اسلام آباد ایم او یو کیا ہے؟
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت یا اسلام آباد ایم او یو پاکستان اور قطر کی ثالثی میں طے پانے والا ایک سفارتی فریم ورک ہے جس کے تحت امریکا اور ایران نے فوجی کارروائیاں روکنے، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھلا رکھنے اور ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور مستقل جنگ بندی سے متعلق جامع مذاکرات پر اتفاق کیا تھا۔
بعد ازاں اس معاہدے کے تحت سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں بھی اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوئے تھے جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی تھی۔
یہ تازہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب گزشتہ کئی ماہ سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے تاہم مختلف ممالک کی ثالثی سے مذاکرات کی بحالی کی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔














