امریکا اور ایران کے درمیان 5 ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ مذاکرات کے بارے میں دونوں ممالک کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک تجارتی جہاز پر حملے نے عالمی توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور تہران کو ایک اچھے معاہدے پر دستخط کرنے کا آخری موقع دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: کیا سفارت کاری جنگ پر غالب آ سکے گی؟
ان کے مطابق یہ رابطے ایران سمیت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی درخواست پر ہو رہے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب انہوں نے گزشتہ ہفتے ایران پر مجوزہ بڑے حملے سفارتی کوششوں کے باعث منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
Conflicting signals from the United States and Iran over the status of talks to end their five-month-old war boosted uncertainty, with the latest attack on shipping in the Strait of Hormuz highlighting risks to global energy flows https://t.co/u2NNjsB0jg
— Reuters (@Reuters) August 4, 2026
دوسری جانب ایران نے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں کسی ملاقات کا پروگرام ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق بات چیت جاری ہے، جبکہ تمام ایرانی مذاکرات کار ملک کے اندر موجود ہیں، سوائے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے، جو عراق میں مذہبی زیارت پر ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا اور ایران میں سفارتی سرگرمیاں تیز، ٹرمپ نے حملہ روکنے کا عندیہ دیدیا
ادھر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق عمان کے ساحل کے قریب ایک مال بردار جہاز کو نامعلوم گولے یا میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ سے بحری آمدورفت معمول سے کم رہی اور پیر کے روز صرف چھ جہاز وہاں سے گزرے۔

اگرچہ خطے میں تناؤ برقرار ہے، تاہم ممکنہ سفارتی پیش رفت کی امید پر عالمی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً سات فیصد گر گئی جبکہ امریکی اسٹاک مارکیٹ کا ڈاؤ جونز انڈیکس ریکارڈ بلند سطح پر بند ہوا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا امریکا ایران کشیدگی پر اظہار تشویش، برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران خطے کی تجارتی گزرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو دباؤ کے ذریعے استعمال کر کے امریکا کو رعایتیں دینے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، جبکہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور دے رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اسی معاملے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں، جس کے باعث مذاکرات کے امکانات اور خطے کی سلامتی دونوں غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔














