امریکا اور ایران میں سفارتی سرگرمیاں تیز، ٹرمپ نے حملہ روکنے کا عندیہ دیدیا

اتوار 2 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی شب اعلان کیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے جلد کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ ایران پر مجوزہ نیا حملہ مؤخر کر دیں گے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے  کہا کہ ایران اوردیگر مشرق وسطیٰ کے ممالکنےمعاہدہ مکمل کرنے کے لیے کچھ وقت مانگا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور مستقل طور پر بحال کیا جائے گا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: کیا سفارت کاری جنگ پر غالب آ سکے گی؟

انہوں نے لکھا کہ اس درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نےدنیا کے مستقبل کے مفاد اور ایک کامیاب و خوشحال ایران کے بقاکے لیے حملہ منسوخ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم یہ فیصلہ جلد معاہدہ طے پانے سے مشروط ہوگا۔

ٹرمپ نےیہ بھی دعویٰ کیاکہ اسرائیل بھی اس مؤقف کی حمایت کرتاہے،تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سےفوری طورپرکوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیاگیا۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی افواج نے ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کی تو تہران اس کا فیصلہ کن جواب دے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطوں میں کہا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا اور امریکی اقدامات کے خطے پر ممکنہ اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا امریکا ایران کشیدگی پر اظہار تشویش، برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ

پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان سے گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکیعدم استحکام پیدا کرنے والے اقداماتکے نتیجے میں پورے خطے کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔

ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل سے وابستہ نیوز ویب سائٹ نور نیوز نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو ایران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور اسرائیل کے توانائی کے مراکز پر حملے کر سکتا ہے۔

دریں اثنا صدر ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس کے دوران کہا کہ انہیں اب بھی امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار، جن میں جیرڈ کشنر، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شامل ہیں، ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں ایرانی قیادت پر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ وہ بار بار اپنے وعدوں سے پھر جاتے ہیں۔

آبنائے ہرمز پر کشیدگی برقرار

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں میں جولائی کے دوران 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رواں سال قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔

کویتی فوج نے بھی بتایا ہے کہ ہفتے کے روز ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ گرنے والے ملبے سے شمالی کویت کی ایک سرکاری تنصیب اور بوبیان جزیرے پر واقع ایک کمپنی کی املاک کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ادھر یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے باب المندب کی آبنائے میں بھی بحری جہازوں کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں، جس سے تیل برآمدات کے ایک اور اہم راستے پر خطرات بڑھ گئے ہیں۔

برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی عمان کے ساحل کے قریب 2 بحری واقعات کی اطلاعات دی ہیں۔ ایک واقعے میں ایک آئل ٹینکر نامعلوم شے کی زد میں آنے سے متاثر ہوا جس سے اس کے انجن روم کو نقصان پہنچا، جبکہ دوسرے واقعے میں ایک اور ٹینکر کے قریب دھماکے کی اطلاع ملی، تاہم اس جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp