امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی شب اعلان کیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے جلد کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ ایران پر مجوزہ نیا حملہ مؤخر کر دیں گے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور ’دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک‘ نےمعاہدہ مکمل کرنے کے لیے کچھ وقت مانگا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور مستقل طور پر بحال کیا جائے گا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: کیا سفارت کاری جنگ پر غالب آ سکے گی؟
انہوں نے لکھا کہ اس درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے ’دنیا کے مستقبل کے مفاد اور ایک کامیاب و خوشحال ایران کے بقا‘ کے لیے حملہ منسوخ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم یہ فیصلہ جلد معاہدہ طے پانے سے مشروط ہوگا۔
ٹرمپ نےیہ بھی دعویٰ کیاکہ اسرائیل بھی اس مؤقف کی حمایت کرتاہے،تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سےفوری طورپرکوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیاگیا۔
JUST IN: 🇺🇸🇮🇷 Trump puts Iran strike on hold, gives Tehran one last chance
President Trump says the United States is "locked and loaded" and ready to use military power against Iran at levels "not seen since World War II."
But instead of ordering an immediate strike, Trump… pic.twitter.com/sdYjIqgg2m
— War Radar (@War_Radar2) August 2, 2026
دوسری جانب ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی افواج نے ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کی تو تہران اس کا فیصلہ کن جواب دے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطوں میں کہا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا اور امریکی اقدامات کے خطے پر ممکنہ اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا امریکا ایران کشیدگی پر اظہار تشویش، برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ
پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان سے گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی ’عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات‘ کے نتیجے میں پورے خطے کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔
ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل سے وابستہ نیوز ویب سائٹ نور نیوز نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو ایران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور اسرائیل کے توانائی کے مراکز پر حملے کر سکتا ہے۔

دریں اثنا صدر ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس کے دوران کہا کہ انہیں اب بھی امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار، جن میں جیرڈ کشنر، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شامل ہیں، ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں ایرانی قیادت پر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ وہ بار بار اپنے وعدوں سے پھر جاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز پر کشیدگی برقرار
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں میں جولائی کے دوران 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رواں سال قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔
🔴 Trump says US and Israel called off Iran attack citing progress on a deal he said would reopen the Strait of Hormuz and stop Iran’s nuclear threat pic.twitter.com/olA4Ev5B3U
— i24NEWS English (@i24NEWS_EN) August 2, 2026
کویتی فوج نے بھی بتایا ہے کہ ہفتے کے روز ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ گرنے والے ملبے سے شمالی کویت کی ایک سرکاری تنصیب اور بوبیان جزیرے پر واقع ایک کمپنی کی املاک کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ادھر یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے باب المندب کی آبنائے میں بھی بحری جہازوں کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں، جس سے تیل برآمدات کے ایک اور اہم راستے پر خطرات بڑھ گئے ہیں۔
برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی عمان کے ساحل کے قریب 2 بحری واقعات کی اطلاعات دی ہیں۔ ایک واقعے میں ایک آئل ٹینکر نامعلوم شے کی زد میں آنے سے متاثر ہوا جس سے اس کے انجن روم کو نقصان پہنچا، جبکہ دوسرے واقعے میں ایک اور ٹینکر کے قریب دھماکے کی اطلاع ملی، تاہم اس جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔












