ملک میں کپاس کی پیداوار میں 32 فیصد اضافہ، سندھ نے سبقت لے لی

منگل 4 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

31 جولائی تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں پھٹی یعنی بیج والی کپاس کی آمد گزشتہ سال کے مقابلے میں 32.33 فیصد بڑھ کر 7 لاکھ 85 ہزار 822 گانٹھوں تک پہنچ گئی۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق، گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 5 لاکھ 93 ہزار 821 گانٹھیں تھی۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں پھٹی کی آمد 2 لاکھ 98 ہزار 150 گانٹھیں رہی، جو گزشتہ سال سے 1.1 فیصد کم ہے، جبکہ سندھ میں مون سون بارشوں کے باوجود 4 لاکھ 87 ہزار 672 گانٹھیں موصول ہوئیں، جو 66.82 فیصد کے نمایاں اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کپاس دنیا کے کتنے  خاندانوں کی روزی کا ذریعہ، پیداوار میں پاکستان کا مقام؟

بلوچستان میں بھی آمد 52.67 فیصد اضافے کے ساتھ 22 ہزار 900 گانٹھوں تک پہنچ گئی۔

کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے پنجاب میں کپاس کی پیداوار سے متعلق پی سی جی اے اور پنجاب حکومت کے کراپ رپورٹنگ سروس کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق کی نشاندہی کی۔

30 جولائی تک پیداوار 4 لاکھ 35 ہزار گانٹھیں تھی، جبکہ پی سی جی اے کے اعداد و شمار اس سے تقریباً 32 فیصد کم ہیں، جس کی وضاحت ضروری ہے۔

’بہاولپور ڈویژن، جو کبھی ملک کا اہم کپاس پیدا کرنے والا علاقہ تھا، وہاں پیداوار انتہائی کم رہ گئی ہے۔‘

 چیئرمین احسان الحق کے مطابق شوگر ملوں کی تعداد بڑھنے سے گنے کی کاشت میں اضافے نے کپاس کے زیرِ کاشت رقبے کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث پاکستان کپاس اور خوردنی تیل کی درآمدات پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں: سال 2025 پاکستان میں کپاس کی بحالی کا سال قرار

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کپاس کے روایتی علاقوں میں گنے کی کاشت محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

پی سی جی اے کے مطابق ٹیکسٹائل ملوں نے 7 لاکھ 4 ہزار گانٹھیں خریدیں، جبکہ 78 ہزار 44 گانٹھیں جننگ فیکٹریوں میں فروخت کے لیے موجود ہیں۔

ملک بھر میں 231 جننگ فیکٹریاں فعال ہیں، تاہم مالی مشکلات کے باعث بعض یونٹس جزوی یا عارضی طور پر بند ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا پاکستانی چاول، کپاس اور دیگر فصلیں اپنے اختتام پر ہیں؟

رپورٹ کے مطابق ضلع سانگھڑ سے 3 لاکھ 98 ہزار گانٹھیں موصول ہوئیں، جو سندھ کی مجموعی پیداوار کا 82 فیصد اور قومی پیداوار کا 51 فیصد بنتی ہیں۔

سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق ابتدائی اعداد و شمار گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر آغاز ظاہر کرتے ہیں، تاہم مجموعی فصل کا درست اندازہ اگست اور ستمبر میں ہوگا۔

انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ماہر ساجد محمود نے خبردار کیا کہ مسلسل بارشوں اور نمی سے سفید مکھی، گلابی سنڈی اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اس لیے کاشتکار بروقت نکاسی آب، کیڑوں کی نگرانی اور زرعی ماہرین کی ہدایات پر عمل کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان ایران فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی پیشرفت مثبت، جلد حتمی شکل دیے جانے کا امکان

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے اسٹیٹ بینک کا بڑا اقدام

لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں، متعدد دہشتگرد ہلاک، ٹھکانے تباہ

میر رضا علی قتل یا خودکشی؟ آخری 48 گھنٹوں میں کیا ہوا، ٹائم لائن نے کیس کے کئی راز بے نقاب کر دیے

کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے واحد میڈل جیتنے والی فاطمہ زہرہ کی وطن واپسی، اپنے پیغام میں کیا کہا؟

ویڈیو

امریکا کی 25 ریاستوں کا ٹرمپ انتظامیہ کے نئے عالمی ٹیرف کیخلاف عدالت سے رجوع

امریکا نے ویزا بانڈ پروگرام مستقل کر دیا، پاکستان مستثنیٰ قرار

سولر صارفین کے لیے اہم خبر، نئی سولر پالیسی میں بڑی سہولت مل گئی

کالم / تجزیہ

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے

جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ