میر رضا علی قتل یا خودکشی؟ آخری 48 گھنٹوں میں کیا ہوا، ٹائم لائن نے کیس کے کئی راز بے نقاب کر دیے

منگل 4 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے رہائشی 25 سالہ نوجوان تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت اب بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کیس میں نئے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک طرف تفتیشی حکام مالی دباؤ، ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری اور خودکشی کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں، تو دوسری جانب اہلخانہ کا مؤقف ہے کہ میر رضا کو منصوبہ بندی کے تحت اغوا، تشدد اور پھر قتل کیا گیا۔

اب تک سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز، ابتدائی پوسٹ مارٹم، پولیس ذرائع اور اہلخانہ کے بیانات کو یکجا کیا جائے تو میر رضا کی زندگی کے آخری 48 گھنٹوں کی ایک ایسی ٹائم لائن بنتی ہے، جس میں کئی واقعات تو واضح ہیں، مگر ان واقعات کے درمیان موجود چند گھنٹے آج بھی سب سے بڑا سوال بنے ہوئے ہیں۔

28 جولائی: معمول کی رات، مگر غیر معمولی فیصلے

28 جولائی کی رات میر رضا علی معمول کے مطابق بہادرآباد میں واقع اپنے وفلکس آفس بند کرکے گھر واپس آئے، لیکن کچھ ہی دیر بعد رات 10 بج کر 43 منٹ پر وہ دوبارہ دفتر پہنچے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ دفتر کی دراز سے سیکیورٹی گارڈ کا 30 بور پستول نکالتے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے پستول اپنی گاڑی میں رکھا اور پھر واپس گھر چلے گئے۔ یہی وہ آخری واضح سی سی ٹی وی فوٹیج ہے جس میں میر رضا اپنے دفتر میں دکھائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں:میر رضا علی خان کیس: اسلحہ نہ ملنے اور فرانزک تضادات نے تحقیقات کو الجھا دیا

گھر پہنچنے کے بعد ان کے چند اقدامات بعد میں پولیس تحقیقات کا اہم حصہ بن گئے۔ تفتیش کے مطابق انہوں نے اپنی گاڑی گھر پر چھوڑ دی، گھر کی چابیاں اور اسمارٹ واچ بھی وہیں رکھ دیں، قریباً 40 ہزار روپے گھر میں چھوڑے، بعض رپورٹس کے مطابق والد کے اکاؤنٹ میں قریباً ڈھائی لاکھ روپے منتقل کیے، اپنے آئی فون کا ڈیٹا حذف کیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کر دیے۔ اسی رات قریباً ساڑھے 11 بجے میر رضا کی اپنی منگیتر سے آخری مرتبہ بات ہوئی، جس کے بعد دونوں کے درمیان دوبارہ کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

29 جولائی: آخری سفر اور پھر خاموشی

رات قریباً 3 بجے میر رضا کی منگیتر نے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق اگلے قریباً 20 منٹ کے دوران اس نے 40 سے زائد کالز اور پیغامات بھیجے، لیکن کسی کا جواب نہیں ملا۔ کچھ ہی دیر بعد میر رضا نے اپنی ذاتی گاڑی استعمال کرنے کے بجائے آن لائن ٹیکسی بک کی۔ صبح 4 بج کر 8 منٹ پر وہ گلستانِ جوہر کے لیے روانہ ہوئے۔ ٹیکسی ڈرائیور کے بیان کے مطابق راستے میں میر رضا نے اپنا پسندیدہ گانا چلانے کو کہا اور منزل پر پہنچ کر معمول سے زیادہ کرایہ ادا کیا۔

صبح 4 بج کر 22 منٹ پر ان کا موبائل فون بند ہو گیا اور پولیس کے مطابق آخری لوکیشن جوہر موڑ، ہل ٹاپ کے قریب ریکارڈ ہوئی۔ صرف 6 منٹ بعد، یعنی صبح 4 بج کر 28 منٹ پر، آن لائن ٹیکسی نے انہیں گلستانِ جوہر بلاک 2 میں اتارا۔ صبح 4 بج کر 30 سے 4 بج کر 38 منٹ کے درمیان سی سی ٹی وی میں میر رضا اکیلے سڑک پر چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ساتھ کوئی دوسرا شخص نظر نہیں آتا، جبکہ ویڈیو میں ان کی کمر پر پستول کا ابھار بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی وہ آخری لمحہ ہے جب میر رضا زندہ حالت میں سی سی ٹی وی کیمروں میں نظر آتے ہیں۔

اور پھر کیا ہوا؟

یہیں سے پوری کہانی ایک معمہ بن جاتی ہے۔ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ میر رضا وہاں کس سے ملنے گئے تھے، وہاں کیوں گئے، گولی کہاں چلی، موت اسی مقام پر ہوئی یا کہیں اور، اور کیا لاش بعد میں وہاں لا کر پھینکی گئی؟

تحقیقات کے دوران ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی، جس میں ایک موٹر سائیکل لاش ملنے والی جگہ پر قریباً 22 سیکنڈ تک رکی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ تحقیقاتی حکام کو شبہ ہے کہ انہی چند سیکنڈز میں لاش وہاں پھینکی گئی، تاہم اس فوٹیج کے وقت پر بھی سوالات موجود ہیں کیونکہ یہ دیگر شواہد سے مطابقت نہیں رکھتا۔

30 جولائی: جھاڑیوں سے لاش برآمد

28 جولائی کو لاپتا ہونے کے قریباً 2 دن بعد، 30 جولائی کی صبح، گلستانِ جوہر میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے میر رضا علی کی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس کو اطلاع قریبی نرسری میں موجود ایک شخص نے دی، جس کے بعد لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم کے مطابق سینے پر ایک گولی کا زخم موجود تھا، جو قریب سے چلائی گئی تھی۔ گولی ابتدائی طور پر 30 بور اسلحے کی قرار دی گئی، تاہم ہاتھوں پر گن شاٹ ریزیڈیو (GSR) واضح طور پر نہیں ملا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کچھ وقت تک کھلے ماحول میں رہنے کی وجہ سے یہ شواہد متاثر بھی ہو سکتے ہیں۔

جائے وقوع سے پستول کا ہولسٹر تو ملا، مگر پستول اور گولی کا خول تاحال برآمد نہیں ہو سکے۔ بعد میں میر رضا کا موبائل فون بھی یونیورسٹی روڈ سے برآمد کیا گیا۔

کیا مالی دباؤ اس واقعے کی وجہ بنا؟

تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کر رہے تھے اور انہیں کروڑوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا تھا۔ مختلف سرمایہ کاروں کی رقم واپس کرنا باقی تھی اور انہوں نے ایک سرمایہ کار سے قریباً 3 کروڑ روپے قرض بھی مانگا تھا، تاہم انہیں رقم نہیں مل سکی۔

اسی سرمایہ کار کے مطابق میر رضا نے ان سے کہا تھا کہ ان کے ذہن میں ’عجیب خیالات‘ آ رہے ہیں۔ دوسری جانب پولیس اس پہلو کو بھی دیگر شواہد کے ساتھ ملا کر جانچ رہی ہے اور ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی۔

مزید پڑھیں: 22 سالہ اداکارہ کی پراسرار موت، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں

اہلخانہ کیا کہتے ہیں؟

میر رضا کے والد نے خودکشی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ قتل کے بعد خاندان کو دھمکی آمیز فون کالز بھی موصول ہوئیں اور وہ موجودہ پولیس تحقیقات سے مطمئن نہیں ہیں۔

وہ سوالات جن کے جواب ابھی باقی ہیں

تفتیش جاری ہے، لیکن کئی بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہیں۔

اگر یہ خودکشی تھی تو پستول کہاں گیا؟
اگر خودکشی تھی تو ہاتھوں پر گن شاٹ ریزیڈیو کیوں نہیں ملا؟
اگر قتل ہوا تو قاتل کہاں ہے اور سی سی ٹی وی میں کیوں نظر نہیں آیا؟
میر رضا اپنی گاڑی چھوڑ کر آن لائن ٹیکسی میں کیوں گئے؟
انہوں نے اپنا موبائل ڈیٹا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کیوں حذف کیے؟
اور سب سے اہم سوال، کیا کروڑوں روپے کا مالی دباؤ اس واقعے کی اصل وجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور کہانی چھپی ہوئی ہے؟

ان سوالات کے جواب تاحال سامنے نہیں آئے، جبکہ پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہی چند گھنٹے اس پورے کیس کا سب سے بڑا راز بنے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp