جعلی سیٹلائٹ تصاویر کے خدشات، گوگل نے نیا اے آئی فیچر عارضی طور پر واپس لے لیا

منگل 4 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوگل نے اپنی نئی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی پر مبنی سہولت جس کے ذریعے صارفین گوگل ارتھ کی سیٹلائٹ تصاویر پر فرضی مناظر تخلیق کر سکتے تھے غلط معلومات (مِس انفارمیشن) پھیلنے کے خدشات کے باعث عارضی طور پر واپس لے لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل کروم کا بڑا سیکیورٹی اقدام، نقصان دہ ایکسٹینشنز کا راستہ بند کرنے کی تیاری

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب بی بی سی ویریفائی کی ایک رپورٹ میں ماہرین نے خبردار کیا کہ اس فیچر کو جعلی تصاویر بنا کر عوام کو گمراہ کرنے اور غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

گوگل نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ کمپنی نے ایسے اسکرین شاٹس دیکھے ہیں جن میں اے آئی سے تیار کردہ تصاویر بظاہر اس کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتی دکھائی دیتی ہیں اسی لیے اس فیچر کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے تاکہ مزید مضبوط حفاظتی اقدامات (گارڈ ریلز) متعارف کرائے جا سکیں۔

یہ فیچر گوگل کے اے آئی امیج جنریٹر نینو بنانا 2 کو گوگل ارتھ میں شامل کیے جانے کے صرف 48 گھنٹے بعد معطل کیا گیا۔ اس سہولت کے ذریعے صارفین تحریری ہدایات (پرامپٹس) دے کر حقیقی سیٹلائٹ، فضائی یا تھری ڈی نقشوں پر فرضی مناظر شامل کر سکتے تھے جنہیں بعد ازاں ڈاؤن لوڈ کرکے دیگر پلیٹ فارمز پر شیئر بھی کیا جا سکتا تھا۔

گوگل کا کہنا ہے کہ لوگ گوگل ارتھ کو دنیا کا قابل اعتماد منظر دیکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اس لیے کمپنی اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے مزید حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔

بی بی سی ویریفائی نے فیچر کی جانچ کے دوران متعدد فرضی تصاویر تیار کیں جن میں ایفل ٹاور کا منہدم ہونا، مصر کے عظیم اہرام کے قریب ایک دیوہیکل گڑھا اور یوکرین کے دارالحکومت کیف میں روسی ٹینکوں کی موجودگی جیسے مناظر شامل تھے حالانکہ یہ تمام تصاویر حقیقت پر مبنی نہیں تھیں۔

مزید پڑھیے: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا

ماہرین کے مطابق سب سے بڑا خدشہ یہ تھا کہ یہ جعلی تصاویر حقیقی جغرافیائی مقامات (کوآرڈینیٹس) کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے زیادہ قابلِ اعتماد محسوس ہو سکتی تھیں جس سے عام صارفین کے لیے حقیقت اور جعلسازی میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا۔

اے آئی اور غلط معلومات کے ماہر ہینک فان ایس نے بھی اس فیچر کے ذریعے ایران میں ایک فرضی جوہری تنصیب، امریکا-میکسیکو سرحد پر غیر موجود مہاجر کیمپ اور غزہ میں ایک جعلی اسپتال کے قریب بم دھماکے کا منظر تخلیق کر کے اس کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اس کے اے آئی ٹولز سے تیار کی جانے والی تصاویر میں پوشیدہ ڈیجیٹل واٹرمارک شامل ہوتا ہے تاکہ ان کی شناخت کی جا سکے۔ کمپنی کے مطابق اگر کسی تصویر کے بارے میں شک ہو تو صارفین جیمنائی یا گوگل لینز کے ذریعے اس کی جانچ کر سکتے ہیں۔

تاہم بی بی سی ویریفائی کی آزمائش میں معلوم ہوا کہ بعض صورتوں میں ان حفاظتی نظاموں کو چکمہ دینا ممکن تھا جبکہ کچھ بیرونی اے آئی شناختی ٹولز بھی ان تصاویر کو جعلی قرار دینے میں ناکام رہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگی علاقوں یا قدرتی آفات جیسے حساس حالات میں ایسی جعلی سیٹلائٹ تصاویر انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ ان سے غلط اطلاعات تیزی سے پھیل سکتی ہیں اور صحافیوں، امدادی اداروں اور عوام کے لیے درست معلومات تک رسائی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: گوگل نے ڈھونڈنے کی جھنجھٹ ختم کردی، ای میل اب آواز دے کر طلب فرمائیں

جغرافیائی تجزیہ کار بل گریئر کے مطابق ماضی میں بھی جعلی سیٹلائٹ تصاویر غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب حقیقی سیٹلائٹ ڈیٹا تک رسائی محدود ہوتی جا رہی ہے تو ایسے جعلی مواد سے عوام کا قابلِ اعتماد معلومات پر اعتماد مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp