سلامتی کونسل کی قرارداد 91 (1951) اور قرارداد 122 (1957) کے مطابق جموں و کشمیر کی دستور ساز اسمبلی یا کسی داخلی آئینی اقدام سے ریاست کی حتمی بین الاقوامی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ جبکہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی سب سے اہم قرار داد سلامتی کونسل کی قرارداد 47 (21 اپریل 1948) ہے، جس میں کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے تین بنیادی مراحل تجویز کیے گئے تھے:
جنگ بندی
فوجوں کا مرحلہ وار انخلا
اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزاد اور غیر جانبدار استصواب رائے
بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں بھارت کا یکطرفہ اقدام
5 اگست 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35اے کو ختم کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور اسے دو حصوں یعنی کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرکے بھارتی یونین ٹیریٹریز میں ضم کرلیا۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں ذہنی امراض کی صورتحال تشویشناک شکل اختیار کرگئی، بھارتی حکومت کا اعتراف
اس اقدام کے بعد نہ صرف پاکستان اور بھارت کے تعلقات شدید متاثر ہوئے بلکہ یہ معاملہ دوبارہ عالمی سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تناظر میں زیر بحث آگیا۔ پاکستان نے سرکاری سطح پر اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔
اس واقعے جسے پاکستان نے ’یوم استحصال کشمیر‘ کا نام دیا اس کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر میں ظلم و بربریت جاری ہے اور ذیل میں تین ایسے واقعات کا ذکر ہے جو اس چیز کا پتا دیتے ہیں کہ بھارت کس طرح سے ریاستی جبر کے ذریعے کشمیریوں کو ان کے حقِ خودارادیت سے دور کرتا ہے۔
ان میں سے ایک واقعہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک محدود جنگ کا باعث بھی بنا جو اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان کسی بھی وقت ایک بڑے تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔
5 اگست 2019 کے بعد کیا ہوا؟
22 اپریل 2025 کو بھارتی زیرانتظام جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ایک مسلح حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد بھارتی حکام نے وادی بھر میں بڑے پیمانے پر انسداد دہشتگردی آپریشن شروع کیے، جس کے دوران قریباً 2800 افراد جن میں صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور عام شہری بھی شامل تھے، گرفتار یا حراست میں لیے گئے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین نے 24 نومبر 2025 کو من مانی گرفتاریوں، طویل حراست، تشدد، جبری مکانات منہدم کرنے اور اظہار رائے پر پابندیوں اور اجتماعی سزاؤں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
اس سے قبل 15 اکتوبر 2024 کو مقبوضہ کشمیر کے گاندربل ضلع میں ایک مسلح حملے میں متعدد مزدور اور ایک ڈاکٹر ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز نے وادی کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیے، جن کے دوران درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا اور کئی علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کی گئیں۔
10 جولائی 2026 کو بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کی علیحدگی پسند سیاسی قیادت کے خلاف اپنی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے متعدد سینیئر رہنماؤں کے خلاف قریباً 3 دہائی پرانے ایک مقدمے میں چارج شیٹ عدالت میں پیش کی۔
بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے مطابق یہ مقدمہ 1996 میں سرینگر میں پیش آنے والے ایک پرتشدد واقعے سے متعلق ہے، جبکہ حریت رہنماؤں پر مبینہ طور پر لوگوں کو اشتعال دلانے، ریاست مخالف سرگرمیوں اور تشدد سے متعلق مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان اور حریت قیادت ان مقدمات کو کشمیری سیاسی قیادت کی آواز دبانے اور اختلافِ رائے کو کچلنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
کشمیر متنازعہ علاقہ کیوں ہے؟
بین الاقوامی قانون کے مطابق جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت پر بھارت اور پاکستان کے درمیان اتفاق نہیں اور اسی وجہ سے یہ معاملہ 1948 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پہنچا، جہاں اسے بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق تنازع قرار دیتے ہوئے متعدد قراردادیں منظور کی گئیں۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 1(1) بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل پر زور دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 2(3) اور آرٹیکل 33 ریاستوں کو مذاکرات، ثالثی اور دیگر پرامن ذرائع سے اختلافات حل کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ انہی اصولوں کے تحت کشمیر کا مقدمہ سلامتی کونسل کے سامنے پیش ہوا۔
اس کے بعد سلامتی کونسل نے قرارداد 38 (17 جنوری 1948) اور 39 (20 جنوری 1948) منظور کیں، جن کے تحت کشیدگی کم کرنے اور اقوام متحدہ کمیشن برائے بھارت و پاکستان کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔
بعد ازاں اقوام متحدہ کمیشن برائے بھارت و پاکستان کی 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کی قراردادوں نے اس طریقہ کار کو مزید واضح کیا اور کہاکہ ریاست کے عوام اپنی سیاسی وابستگی کا فیصلہ آزادانہ رائے شماری کے ذریعے کریں گے۔
آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کس طرح بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے؟
5 اگست 2019 کو بھارت نے آرٹیکل 370 کی عملی حیثیت ختم کردی، جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی خودمختاری حاصل تھی۔ اسی روز آرٹیکل 35 اے بھی ختم کردیا گیا، جو مقامی باشندوں کے خصوصی حقوق، زمین کی ملکیت، سرکاری ملازمتوں اور مستقل رہائش سے متعلق تحفظات فراہم کرتا تھا۔
پاکستان اور متعدد بین الاقوامی قانونی ماہرین کے مطابق یہ اقدامات اِن وجوہات کی بنا پر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون سے متصادم ہیں۔
سلامتی کونسل کی قراردادیں 47، 91 اور 122 اس اصول پر مبنی ہیں کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت ابھی طے نہیں ہوئی، اس لیے کسی ایک فریق کو اس کی آئینی یا انتظامی حیثیت یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
دوسری دلیل حق خودارادیت سے متعلق ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 1(2) میں تمام اقوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ کشمیری عوام کو اپنی سیاسی حیثیت کے تعین کا حق دیے بغیر خصوصی حیثیت ختم کرنا اس اصول کے منافی ہے۔
مزید پڑھیں: مودی حکومت قابض کشمیر میں ہونیوالی دہشتگردی کی ذمہ دار ہے، سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ
تیسری دلیل ڈیموگرافک تبدیلیوں سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 35 اے کے خاتمے کے بعد غیر مقامی افراد کے لیے زمین خریدنے، مستقل رہائش اختیار کرنے اور بعض دیگر حقوق کے دروازے کھلے، جس پر پاکستان اور بعض انسانی حقوق کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے متنازعہ علاقے کی ڈیموگرافی تبدیل ہو سکتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ آج تک نہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھارت کے 2019 کے اقدامات کی توثیق کی ہے اور نہ ہی کسی بین الاقوامی عدالت نے انہیں باقاعدہ غیر قانونی قرار دیا ہے، چنانچہ اس معاملے پر قانونی اور سفارتی اختلاف بدستور برقرار ہے۔













