تخلیق کا سفر ذہن سے شروع ہوتا ہے مصنوعی ذہانت سے نہیں، 9 برس کی عمر میں ناول نگار بننے والی ایمن رحمان

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی کم عمر ترین ناول نگاروں میں شمار ہونے والی ایمن رحمان نے کہا کہ کسی بھی شعبے میں کامیابی کے لیے صرف صلاحیت کافی نہیں بلکہ گھر کا ماحول، مسلسل مطالعہ، والدین کی حوصلہ افزائی اور محنت بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ‘مصنوعی ذہانت ادیبوں کے اثاثے چرانے میں مشغول، کیا ’خالی کتاب تحریک‘ یہ سلسلہ روک پائے گی؟

وی نیوز کے خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر بچوں کو کم عمری سے کتابوں سے جوڑ دیا جائے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع دیا جائے تو وہ غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

ایمن رحمان نے بتایا کہ ان کا تعلق ایک علمی خاندان سے ہے اور ان کے والدین اور دادا اردو ادب سے وابستہ رہے تاہم انگریزی ادب سے دلچسپی ان کا ذاتی شوق تھا۔

انہوں نے کہا کہ والدین بچپن سے انہیں کتابیں لا کر دیتے تھے، مختلف ادبی میلوں میں لے جاتے تھے اور معروف ادیبوں سے ملنے کے مواقع فراہم کرتے تھے جس نے ان کے اندر لکھنے کا جذبہ پیدا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک روز انہوں نے اپنے والد سے پوچھا کہ کیا کتابیں عام لوگ بھی لکھ سکتے ہیں؟ جب والد نے جواب دیا کہ ہر انسان لکھ سکتا ہے تو انہوں نے اسی وقت قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ والد نے رجسٹر اور قلم لا کر دیے اور انہوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کر دیا۔ یہی شوق بعد ازاں ان کے پہلے ناول کی صورت میں سامنے آیا جو انہوں نے صرف 9 برس کی عمر میں تحریر کیا۔

ایمن رحمان نے کہا کہ ان کے پہلے ناول کا موضوع ایک پراسرار کہانی تھی جس میں ایک خاندان اور اس کے پالتو جانور کے گرد اسرار و تجسس پر مبنی واقعات بیان کیے گئے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے 12 برس کی عمر میں دوسرا ناول ’Dreams and the Mystery of the Haunted House‘ تحریر کیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تحریر میں پختگی آئی اور انہوں نے شاعری، لیریکل مضامین، مختصر کہانیوں اور تنقیدی مضامین پر بھی کام شروع کیا۔

انہوں نے کہا کہ بچپن میں معروف ادیبوں اور دانشوروں سے ملاقاتیں ان کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوئیں۔ مثبت رائے نے اعتماد میں اضافہ کیا جبکہ تنقید نے اپنی خامیوں کو دور کرنے میں مدد دی۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان لکھاریوں کے لیے حوصلہ افزائی انتہائی اہم ہوتی ہے کیونکہ یہی اعتماد انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ آج بھی جب بچے ان سے مل کر بتاتے ہیں کہ انہوں نے اسکول کی لائبریری میں ان کی کتاب پڑھی ہے تو انہیں خوشی اور اطمینان محسوس ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے: ’گوگل اے آئی خلاصہ گلے پڑگیا‘، آن لائن ٹریفک متاثر ہونے پر ببلشرز کا احتجاج

ایمن رحمان نے کہا کہ انہوں نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) سے انگریزی ادب میں تعلیم حاصل کی اور گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔ ان کے مطابق مطالعہ اور لکھنے کی عادت نے تعلیمی میدان میں بھی انہیں نمایاں کامیابی دلائی۔
ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی مثبت عادتیں آگے چل کر انسان کے پورے کیریئر کی سمت متعین کرتی ہیں۔

سوشل ورک سے متعلق سوال پر ایمن رحمان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ انہیں دوسروں کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ لمز میں تعلیم کے دوران انہوں نے ایسے طلبہ کی مدد کی جنہیں انگریزی زبان میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ وہ انہیں پڑھنے، لکھنے، بولنے اور مؤثر انداز میں اظہارِ خیال کرنے کی تربیت دیتی رہیں تاکہ زبان کی بنیاد پر پیدا ہونے والا فرق کم کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے پاکستان کے علاوہ بیرون ملک بھی تدریسی خدمات انجام دیں اور مختلف ممالک میں طلبہ کو پاکستانی معاشرے، ادب اور ترقی پذیر ممالک کے مسائل سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق علم کی منتقلی اور رہنمائی بھی سوشل ورک کی ایک مؤثر شکل ہے۔

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند نوجوانوں کے حوالے سے ایمن رحمان نے کہا کہ پاکستان میں بہت سے باصلاحیت طلبہ موجود ہیں لیکن انہیں اسکالرشپس، داخلوں اور درخواست لکھنے کے طریقہ کار سے متعلق مناسب رہنمائی نہیں ملتی۔

مزید پڑھیں: نیا عالمی مشن: کیا اب ہم انسانی اور اے آئی تخلیق میں فرق کر سکیں گے؟

انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سفر طے کر چکے ہیں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئے طلبہ کی رہنمائی کریں۔ انہوں نے بتایا کہ آج بھی متعدد نوجوان ان سے مشورہ کرتے ہیں اور وہ حتیٰ الامکان ان کی مدد کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

ادب میں اے آئی پر زیادہ انحصار کیوں مناسب نہیں؟

مصنوعی ذہانت یا اے آئی ٹیکنالوجی پر گفتگو کرتے ہوئے ایمن رحمان نے کہا کہ ادب اور تخلیقی تحریر میں انفرادی سوچ اور اظہار کی بہت اہمیت ہے اس لیے وہ ذاتی طور پر اے آئی پر زیادہ انحصار کی حامی نہیں ہیں۔

تاہم ان کے مطابق اگر کسی طالب علم کو ابتدا میں رہنمائی کی ضرورت ہو تو ٹیکنالوجی مثبت انداز میں استعمال کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان ٹیکنالوجی کو اپنے فائدے کے لیے کس حد تک متوازن انداز میں استعمال کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ذرائع نے مطالعے کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ مثال کے طور پر ای بُکس اور ِکنڈل جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے کتابوں تک رسائی کو آسان اور نسبتاً کم خرچ بنا دیا ہے تاہم ٹیکنالوجی کا استعمال ہمیشہ تعمیری مقاصد کے لیے ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: مصنوعی ذہانت میڈیا اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر کیسے اثرانداز ہوگی؟ بین رپورٹ کا تجزیہ

مختلف زبانوں کی اہمیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایمن رحمان نے کہا کہ ہر نئی زبان انسان کو ایک نئی ثقافت، نئے معاشرے اور نئے خیالات سے روشناس کراتی ہے۔

ان کے مطابق نوجوانوں کو اپنی مادری زبان اور قومی زبان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی زبانیں بھی ضرور سیکھنی چاہییں کیونکہ زبانیں نہ صرف روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرتی ہیں بلکہ شخصیت کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پروگرام کے اختتام پر ایمن رحمان نے خصوصاً نوجوان لڑکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بہت سی لڑکیاں مختلف سماجی، معاشی اور خاندانی مشکلات کا سامنا کرتی ہیں لیکن انہیں اپنی تعلیم اور صلاحیتوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

ایمن رحمان نے کہا کہ ہر فرد کو اپنی ذات، ذہنی صحت، تخلیقی صلاحیتوں اور مسلسل سیکھنے کے عمل کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ یہی چیزیں مستقبل میں ذاتی اور قومی ترقی کا ذریعہ بنتی ہیں۔

مزید پڑھیں: مزاح نگاری مصنوعی ذہانت کے بس کی بات نہیں، مصنفین

انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان کے نوجوان، بالخصوص طالبات، اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے آگے بڑھیں گی اور علم، ادب، تحقیق اور سماجی خدمت کے میدان میں ملک کا نام روشن کریں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی کابینہ نے بین الاقوامی مرکز برائے مصنوعی ذہانت تحقیق و اخلاقیات کے بنیادی نظام کی منظوری دے دی

یومِ استحصالِ کشمیر: جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت بحال کی جائے، سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی

یومِ استحصالِ کشمیر: وزیراعلیٰ بلوچستان کا کشمیری عوام سے غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار

نجی ازبک ایئر لائن سینٹرم ایئر کا تاشقند، کراچی براہِ راست پروازوں کا اعلان

5 اگست 2019 کے بھارتی اقدام کے خلاف وزارتِ امور کشمیر اور وزارتِ خارجہ کی احتجاجی ریلی، کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار

ویڈیو

واشنگٹن کے چڑیا گھر میں باؤلی نے اپنی 5ویں سالگرہ کیسے منائی؟

اسلام آباد: بدھ مت کے تاریخی آثار، شاہ اللہ دتہ غاروں کو عالمی توجہ کا مرکز بنانے کی تیاری

محسن نقوی نئے صوبوں کا بیان دینے کے بعد کہاں غائب، نواز شریف نے پارٹی کو بیان دینے سے کیوں منع کیا؟

کالم / تجزیہ

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے