پاکستانی اداکاراؤں شرمین علی، سنیتا مارشل اور صائمہ قریشی نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو خود انحصاری سکھائیں اور انہیں روزمرہ زندگی کی ضروری مہارتوں سے آراستہ کریں۔
تینوں اداکاراؤں نے ندا یاسر کے مارننگ شو میں شرکت کے دوران بچوں کی تربیت، گھریلو ذمہ داریوں اور خودمختاری کی اہمیت پر گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں کو اپنی دیکھ بھال کرنا اور گھر کے کاموں میں حصہ لینا سیکھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: میرے دونوں بچے مذہب اسلام کی پیروی کرتے ہیں، سنیتا مارشل
سنیتا مارشل نے کہا کہ کراچی میں حفاظتی مسائل کے باعث بچوں کو ہر وقت باہر آزادی دینا ممکن نہیں، تاہم گھر کے اندر انہیں خودمختار بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو اپنا بستر لگانے، معمولی کھانا تیار کرنے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے تاکہ وہ ہر وقت والدین پر انحصار نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ غیر نصابی سرگرمیاں بھی بچوں میں خود اعتمادی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہیں، کیونکہ اس سے وہ وقت کا انتظام کرنا سیکھتے ہیں۔
صائمہ قریشی نے بھی بچوں کو گھریلو کاموں میں شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ تین بیٹوں کی والدہ صائمہ نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کو اپنا بستر لگانے، برتن دھونے، چائے یا کافی بنانے، گھر صاف رکھنے اور کپڑے استری کرنے کی ذمہ داری دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر شروع سے بچوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا نہ کیا جائے تو بعد میں وہ کسی کام کے عادی نہیں ہوتے۔
سنیتا مارشل نے بتایا کہ ان کے گھر میں ذمہ داریاں سب افراد میں تقسیم ہیں اور ہر فرد اپنی باری کے مطابق کام کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صائمہ قریشی نے مردوں کو دوسری شادی کا مشورہ کیوں دیا؟
شرمین علی نے کہا کہ گھریلو کاموں کو لڑکوں یا لڑکیوں سے مخصوص نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو جنس سے بالاتر ہو کر یہ کام سکھانے چاہئیں، کیونکہ کام کرنے والے والدین ہر وقت بچوں کے ساتھ موجود نہیں ہو سکتے اور بچوں کو اپنے مسائل خود حل کرنا سیکھنا چاہیے۔
شرمین نے اپنی زندگی کا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ گاڑی چلانا سیکھنے کے بعد انہیں حقیقی خودمختاری کا احساس ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ علیحدگی کے بعد جب وہ والدہ کے گھر واپس آئیں تو انہوں نے ڈرائیونگ سیکھنا شروع کی، جس سے ان کا اعتماد بڑھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کو بھی کم عمری سے ایسی مہارتیں سکھانا چاہتی ہیں، جن سے وہ مستقبل میں خود پر اعتماد کر سکے۔
گفتگو کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والے مواد اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بچوں پر اثرات پر بھی بات ہوئی۔ اداکاراؤں کا کہنا تھا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی کے کچھ خدشات ہیں، تاہم اس نے بچوں کو نئی معلومات تک رسائی بھی دی ہے۔
صائمہ قریشی نے بتایا کہ بعض اوقات ان کے بچے آن لائن معلومات حاصل کر کے انہیں بھی نئی چیزیں سکھاتے ہیں، جس سے والدین کو بھی بچوں سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہانیہ عامر نے ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کے لیے کتنے لاکھ کا مطالبہ کیا؟
سنیتا مارشل نے اپنے بیٹے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہ تاریخ میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس نے دوسری جنگ عظیم کے بارے میں بہت سی معلومات خود آن لائن حاصل کیں، جو اسے اسکول میں پڑھائے جانے سے پہلے ہی معلوم تھیں۔
شرمین نے کہا کہ بچوں کو ڈیجیٹل آلات استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، تاہم اس کے لیے واضح حدود مقرر کرنا ضروری ہیں۔
سنیتا نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غیر نصابی سرگرمیوں کے باوجود پڑھائی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
صائمہ قریشی نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی میں بھرپور دلچسپی رکھتی ہیں اور ان کی سرگرمیوں، دوستوں اور معمولات پر نظر رکھتی ہیں تاکہ اچھی تربیت یقینی بنائی جا سکے۔
واضح رہے کہ شرمین علی، سنیتا مارشل اور صائمہ قریشی حالیہ عرصے میں مختلف ڈراموں میں اداکاری کر چکی ہیں۔













