تھائی لینڈ کے شہر فوکٹ سے نئی دہلی جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز AI 2379 شدید فضائی جھٹکوں (ٹربولنس) کا شکار ہوگئی، جس کے نتیجے میں 15 افراد، جن میں 13 مسافر اور عملے کے 2 ارکان شامل ہیں، زخمی ہوگئے۔
مزید پڑھیں:ایئر انڈیا کی پرواز فضائی ہچکولوں کا شکار، 14 افراد زخمی
مسافروں کے مطابق پرواز کے دوران اچانک طیارہ قریباً 300 فٹ نیچے آیا، جس سے کیبن میں شدید افراتفری پھیل گئی۔ کئی مسافر اپنی نشستوں سے اچھل کر اوپر جا لگے جبکہ کچھ کے سروں اور جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئیں۔
اطالوی خاتون مسافر ویویانا، جن کی والدہ اس واقعے میں زخمی ہوئیں، نے بتایا، ’طیارہ معمول کے مطابق پرواز کر رہا تھا کہ اچانک شدید جھٹکے شروع ہوگئے۔ میں نے اپنی بہن کو نشست سے ہوا میں اچھلتے دیکھا، والدہ کے سر پر چوٹ لگی، ایک شخص کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا، ہمیں لگا کہ ہم سب مر جائیں گے۔ یہ انتہائی خوفناک لمحہ تھا۔‘
#Breakingnews
फुकेट से दिल्ली आ रही एअर इंडिया की फ्लाइट AI2379 को उड़ान के दौरान अचानक टर्बुलेंस का सामना करना पड़ा। कुछ पल के लिए विमान की ऊंचाई में बदलाव हुआ, लेकिन क्रू ने स्थिति को सुरक्षित तरीके से संभाल लिया। विमान में 134 यात्री सवार थे। #AirIndia pic.twitter.com/Uh3O84A1Qh— @DK1616 (@daksh1616) August 4, 2026
ایئر انڈیا کے مطابق پرواز کے دوران اچانک بلندی میں معمولی تبدیلی آئی، تاہم طیارہ بحفاظت نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا اور تمام مسافروں اور عملے کو محفوظ طریقے سے باہر نکال لیا گیا۔ زخمیوں کو احتیاطی طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ بعض مسافروں کو ابتدائی علاج کے بعد فارغ بھی کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:ایئر انڈیا کے سی ای او کیمپبل ولسن مستعفی، خساروں اور تحقیقات کا دباؤ
بھارتی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اچانک پیش آنے والے اس فضائی حادثے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔














