یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف، مسلح افواج کی قیادت اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے کشمیری عوام کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا پرامن، منصفانہ اور دیرپا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا اور ان کی آواز تمام علاقائی و بین الاقوامی فورمز پر بلند کرتا رہے گا۔
صدر آصف علی زرداری نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت میں ثابت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت تک ہر بین الاقوامی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا جب تک مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق نہیں ہو جاتا۔
آج یومِ استحصال کے موقع پر حکومتِ پاکستان اور پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ بھرپور انداز میں غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ ہم اس دن کو اس عزم کے ساتھ مناتے ہیں کہ دنیا کو بھارت کے 5 اگست 2019 کے ان غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے سنگینی کی یاد… pic.twitter.com/Ivn8V0tM6d
— PTV News (@PTVNewsOfficial) August 4, 2026
صدر مملکت نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا نوٹس لے اور تنازع کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات کو سات سال گزر چکے ہیں، تاہم یہ اقدامات نہ تو جموں و کشمیر کی متنازعہ بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے عزم کو کمزور کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سات برسوں کے دوران لاکھوں کشمیری سخت پابندیوں، غیر یقینی صورتحال اور بنیادی حقوق سے محرومی کا سامنا کرتے رہے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ اپنے جائز حقِ خودارادیت کے لیے ثابت قدم ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے کشمیری عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی قربانیاں پوری پاکستانی قوم کے لیے حوصلے اور استقامت کی علامت ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ کشمیری عوام کو انصاف، امن اور کامیابی عطا فرمائے۔
یہ بھی پڑھیں:5 اگست 2019 کو بھارت نے کس طرح یکطرفہ طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کو ضم کیا؟
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کی یاد دلاتا ہے، جن کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سات برس گزرنے کے باوجود بھارت اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکا اور نہ ہی کشمیری عوام کی آزادی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دبا سکا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے اقدامات کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید خراب ہوئی، بنیادی آزادیوں پر قدغنیں لگائی گئیں، آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور کشمیری سیاسی قیادت، آزاد میڈیا اور شہری آزادیوں کو مسلسل دبایا جا رہا ہے، جو شدید تشویش کا باعث ہے۔
Video Message from the Deputy Prime Minister and Foreign Minister of the Islamic Republic of Pakistan, Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50, on 'Youm-e-Istehsal' (5 August 2026) pic.twitter.com/Osx7G4KXrf
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 5, 2026
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے غیرقانونی اقدامات واپس لے، سخت قوانین کا خاتمہ کرے اور ایسا ماحول پیدا کرے جس میں کشمیری عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خودارادیت کا آزادانہ استعمال کر سکیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی راہ میں سب سے بڑا حل طلب تنازع ہے اور خطے میں پائیدار امن طاقت یا یکطرفہ اقدامات سے نہیں بلکہ کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کے منصفانہ حل سے ہی ممکن ہے۔
دریں اثنا، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاکستان کی مسلح افواج نے بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جائز جدوجہد کی مکمل حمایت جاری رکھیں گی، جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا بنیادی حق ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یوم استحصال کشمیر: 7 برس گزر گئے، مقبوضہ وادی آج بھی پابندیوں، گرفتاریوں اور غیر یقینی مستقبل کی تصویر
بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی مسلسل موجودگی، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، فوجی محاصرہ اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں نہایت تشویشناک ہیں۔ ایسے اقدامات اور اشتعال انگیز رویہ نہ صرف خطے میں عدم استحکام کو بڑھاتے ہیں بلکہ لاکھوں کشمیریوں کی مشکلات میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے مقبوضہ کشمیر کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کشمیری عوام کی جائز جدوجہد میں ہر ممکن حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر کشمیری عوام کے صبر، قربانی اور عزم کی یاد دلاتا ہے، جو مسلسل جبر کے باوجود اپنے حقِ خودارادیت کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے منافی تھے اور کوئی بھی یکطرفہ اقدام تاریخ یا کشمیریوں کی جدوجہد کو ختم نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے مشروط ہے اور عالمی برادری کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ بلاول بھٹو نے دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ یومِ استحصالِ کشمیر یکجہتی اور عزم کے ساتھ منائیں اور کشمیری عوام کی آواز دنیا تک پہنچائیں۔
دریں اثنا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور ہر بین الاقوامی فورم پر ان کے حقوق کی آواز بلند کرتا رہے گا۔ اسحاق ڈار نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ، پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، کیونکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل سے ہی ممکن ہے۔














