یوم استحصال کشمیر: 7 برس گزر گئے، مقبوضہ وادی آج بھی پابندیوں، گرفتاریوں اور غیر یقینی مستقبل کی تصویر

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’بھارتی فوج جب چاہے کسی کے گھر میں گھس جائے، عسکریت پسندوں کی موجودگی کا الزام لگا کر ہنستے بستے گھر کو دھماکے سے اڑا دیا جائے، خواتین اور بچوں کو بھی نہ بخشا جائے۔ یہ داستان ہے جنت نظیر وادی کہلانے والے مقبوضہ کشمیر کی، جہاں لاکھوں کشمیری کھلی جیل میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، لیکن زبان سے پھر بھی ایک ہی نعرہ نکلتا ہے، ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔‘

پانچ اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کو 7 برس مکمل ہو چکے ہیں، تاہم کشمیریوں کے مطابق اس دن سے شروع ہونے والا استحصال، سیاسی دباؤ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ہر سال 5 اگست کو پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری ’یوم استحصال کشمیر‘ مناتے ہیں تاکہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ وادی کی صورتحال کی جانب مبذول کرائی جا سکے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں ذہنی امراض کی صورتحال تشویشناک شکل اختیار کرگئی، بھارتی حکومت کا اعتراف

5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کو ختم کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی۔ اس اقدام کے ساتھ ہی ریاست کو دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کر دیا گیا اور نئی دہلی کے براہ راست انتظامی کنٹرول میں دے دیا گیا۔

بھارت نے اس فیصلے کو ترقی، سرمایہ کاری اور امن کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ پاکستان، کشمیری قیادت اور بین الاقوامی مبصرین نے اسے متنازع خطے کی حیثیت تبدیل کرنے کی یکطرفہ کوشش قرار دیا۔

5 اگست 2019 کے بعد وادی میں سخت پابندیاں

بھارتی فیصلے کے فوری بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کیا گیا، مواصلاتی نظام معطل کر دیا گیا، موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بند کردی گئیں جبکہ ہزاروں سیاسی رہنماؤں، کارکنوں، وکلا، تاجروں اور نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا، جس کے بعد مقبوضہ وادی اب تک کھلی جیل کا منظر پیش کررہ ہے، جہاں کشمیری اپنے گھروں کو ہی جیل تصور کررہے ہیں۔

کشمیری سیاسی جماعتوں اور حریت قیادت کا مؤقف ہے کہ گزشتہ 7 برسوں کے دوران اظہار رائے، سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کے حق پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، جبکہ متعدد رہنما اب بھی جیلوں یا نظر بندی میں ہیں۔

آبادی کے تناسب سے متعلق خدشات

آر پار کشمیری قیادت کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 35 اے کے خاتمے کے بعد غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل، زمین کی خرید و فروخت اور سرکاری ملازمتوں تک رسائی دینے سے مقبوضہ کشمیر کی آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

پاکستان اور کشمیری قیادت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں اور متنازع علاقے کی حیثیت کے منافی ہیں۔

انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی تشویش

گزشتہ برسوں میں مختلف بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں نے مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار، سیاسی سرگرمیوں، گرفتاریوں، میڈیا پر پابندیوں اور سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا آزادانہ جائزہ لینے کے لیے اقدامات کریں۔

پاکستان ہر سال 5 اگست کو ’یوم استحصال کشمیر‘ مناتا ہے اور اس موقع پر ملک بھر میں سیمینارز، ریلیوں، خصوصی تقاریب اور یکجہتی کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کا مستقبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق طے ہونا چاہیے۔

پاکستان کا یہ بھی مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑا تنازع ہے اور اس کے منصفانہ حل کے بغیر خطے میں دیرپا استحکام ممکن نہیں۔

دوسری جانب بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے، اور 10 لاکھ افواج مقبوضہ کشمیر میں تعینات کر رکھی ہے، جس نے کشمیریوں کا جینا دو بھر کردیا ہے، اور آئے روز مظالم کی نئی داستانیں سامنے آرہی ہیں۔

حریت قیادت کا مؤقف

حریت رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور سماجی آزادیوں کو مزید محدود کر دیا گیا اور کشمیری عوام آج بھی خوف اور غیر یقینی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ان کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطابق ہی ممکن ہے۔

عالمی برادری سے مطالبہ

یوم استحصالِ کشمیر کے موقع پر پاکستان اور کشمیری قیادت ایک بار پھر عالمی برادری، اقوام متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا مؤثر نوٹس لیں، انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی غیرمعمولی سرگرمیاں، ایک اور فالس فلیگ آپریشن کے خدشات

7 برس گزرنے کے باوجود 5 اگست 2019 کے فیصلے کے اثرات آج بھی جنوبی ایشیا کی سیاست، پاک بھارت تعلقات اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی روزمرہ زندگی پر نمایاں دکھائی دیتے ہیں، جبکہ یہ تنازع اب بھی خطے کے اہم ترین اور حساس ترین مسائل میں شمار ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی برآمدی پابندیوں کا الٹا اثر، سام سنگ سمیت جنوبی کورین کمپنیوں کا رخ چینی چِپ آلات کی جانب

چین نے لانگ مارچ 8 اے راکٹ کے ذریعے انٹرنیٹ سیٹلائٹس کا نیا گروپ کامیابی سے خلا میں بھیج دیا

کرسٹیانو رونالڈو دودھ کیوں نہیں پیتے؟ ذاتی شیف نے فٹنس کا راز بتا دیا

’لگا آج نہیں بچیں گے‘ فضا میں شدید جھٹکے، ایئر انڈیا کے مسافروں پر خوف طاری

بحیرۂ احمر میں حملے کے بعد بھارتی پرچم بردار جہاز ڈوب گیا، 13 بھارتیوں سمیت تمام 14 ملاح بچا لیے گئے

ویڈیو

تخلیق کا سفر ذہن سے شروع ہوتا ہے مصنوعی ذہانت سے نہیں، 9 برس کی عمر میں ناول نگار بننے والی ایمن رحمان

اسلام آباد: بدھ مت کے تاریخی آثار، شاہ اللہ دتہ غاروں کو عالمی توجہ کا مرکز بنانے کی تیاری

محسن نقوی نئے صوبوں کا بیان دینے کے بعد کہاں غائب، نواز شریف نے پارٹی کو بیان دینے سے کیوں منع کیا؟

کالم / تجزیہ

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے