میجر جنرل (ر) طارق رشید نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں عدالت سے سزا یافتہ اور مطلوب سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو بھارت کی جانب سے ورچوئل خطاب کی اجازت دینا دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈھاکا حکومت پہلے ہی حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر چکی ہے، جبکہ بھارت انہیں سیاسی سرگرمیوں کی کھلی چھوٹ دے رہا ہے۔
میجر جنرل (ر) طارق رشید نے بھارت میں مقیم بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو ورچوئل خطاب کی اجازت دیے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسینہ واجد عدالت سے سزا یافتہ ہیں اور بنگلہ دیش کو مطلوب ہیں، اس کے باوجود بھارت انہیں بنگلہ دیش کے داخلی معاملات میں مداخلت کی کھلی چھوٹ دے رہا ہے۔
انہوں نے نجی ٹیلیویژن پر کہا کہ بنگلہ دیشی حکومت بھارت سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا باضابطہ مطالبہ کر چکی ہے، جبکہ ان پر اپنے دورِ حکومت میں محب وطن بنگلہ دیشیوں کے قتل اور سخت کریک ڈاؤن کے الزامات بھی عائد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ملک سے فرار شیخ حسینہ واجد کا دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آ کر گرفتاری دینے کا اعلان
دوسری جانب بھارت نے واضح کیا ہے کہ 5 اگست کو نئی دہلی میں شیخ حسینہ کے مجوزہ ورچوئل خطاب سے حکومتِ ہند کا کوئی تعلق نہیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ تقریب جنوبی ایشیا کے فارن کورسپانڈنٹس کلب کے زیر اہتمام ایک نجی ادارے کی جانب سے منعقد کی جا رہی ہے اور بھارتی حکومت اس کی منتظم نہیں۔
ادھر بنگلہ دیشی حکومت نے نئی دہلی سے وضاحت طلب کی تھی کہ آیا وہ شیخ حسینہ کے مجوزہ خطاب کی حمایت کر رہی ہے یا نہیں۔ بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق حکومت نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بھی ہدایت کی ہے کہ شیخ حسینہ کی تقریر نشر یا نمایاں انداز میں شائع نہ کی جائے، بصورت دیگر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ تمام پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش میں 5 اگست کو طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کی دوسری برسی منائی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں دو سال قبل شیخ حسینہ کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔
بنگلہ دیش کے روزنامہ دی ڈیلی اسٹار کے مطابق 5 اگست 2024 کو ہزاروں مظاہرین ’مارچ ٹو ڈھاکا‘ کے تحت وزیر اعظم ہاؤس کی جانب بڑھ رہے تھے۔ سیکیورٹی حکام نے شیخ حسینہ کو آگاہ کیا کہ وہ اب سرکاری رہائش گاہ کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتے، جس کے بعد انہیں دارالحکومت چھوڑنا پڑا اور وہ بھارت منتقل ہو گئیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق شیخ حسینہ کا بھارت سے ورچوئل خطاب اور اس پر ڈھاکا اور نئی دہلی کے درمیان پیدا ہونے والی سفارتی کشیدگی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے تنازع کا سبب بن سکتی ہے۔













