پاکستان اور آسٹریلیا نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے اور دفاع، سلامتی، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے دارالحکومت کینبرا میں سینیئر حکام کے مذاکرات اور مشترکہ تجارتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق 4 اگست کو کینبرا میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سینیئر حکام کے مذاکرات کا 9واں دور منعقد ہوا۔ پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ (ایشیا پیسیفک) ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی نے کی، جبکہ آسٹریلوی وفد کی سربراہی محکمہ خارجہ و تجارت کی فرسٹ اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی و وسطی ایشیا سارہ اسٹوری نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا اور پاکستان جوان ممالک لیکن قدیم قومیں ہیں، آسٹریلوی ہائی کمشنر
مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا اور اعلیٰ سطح کے تبادلوں، سیاسی روابط، اقتصادی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، دفاع، سلامتی، انسداد دہشتگردی، بین الاقوامی جرائم کی روک تھام اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
🔈 PR No. 1️⃣9️⃣9️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Pakistan and Australia Hold Senior Officials’ Talks and Joint Trade Committee Meeting
🔗⬇️ pic.twitter.com/y2n0thoFY7
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 5, 2026
دونوں فریقوں نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی خیالات کا تبادلہ کرتے ہوئے کثیرالجہتی فورمز پر باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ نے آسٹریلوی حکام کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں، جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال، بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں و کشمیرکی صورتحال اور سندھ طاس معاہدے کی بھارت کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستانی طلبا آسٹریلیا کی اسکالرشپ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
اسی روز کینبرا میں آسٹریلیا۔پاکستان مشترکہ تجارتی کمیٹی کا 10واں اجلاس بھی منعقد ہوا۔ پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری تجارت جواد پال خواجہ نے کی، جبکہ آسٹریلوی وفد کی سربراہی بھی سارہ اسٹوری نے کی۔
اجلاس میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں زراعت، لائیو اسٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی اور خدمات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں ممالک نے منڈیوں تک بہتر رسائی، تجارت سے متعلق مسائل، بالخصوص پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی نئی امیگریشن پالیسی، پاکستانیوں کے لیے بری خبر کیا ہے؟
اجلاس کے دوران عالمی تجارتی رجحانات، ان کے دوطرفہ تجارت پر ممکنہ اثرات اور عالمی تجارتی تنظیم یعنی ڈبلیو ٹی او سمیت کثیرالجہتی تجارتی نظام کے تحت تعاون کے مزید مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق ان ملاقاتوں سے دونوں ممالک کو دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے، تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کا موقع ملا۔










