اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ طاقتور ایل نینو موسمی نظام کے باعث آئندہ سال کے اختتام تک دنیا کے کمزور ترین خطوں میں تقریباً 4 کروڑ 90 لاکھ مزید افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’سپر ایل نینو‘ سے افریقہ کو 10 سے 20 ارب ڈالر تک معاشی نقصان اور بڑے پیمانے پر ہجرت کا خدشہ
ڈبلیو ایف پی کی بدھ کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 81 فیصد امکان ہے کہ اس بار ایل نینو انتہائی طاقتور ثابت ہوگا۔ سمندری سطح کا درجہ حرارت کم از کم سنہ 1982 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے اور یہ سنہ 1950 کے بعد کا سب سے طاقتور ایل نینو بن سکتا ہے۔
ایل نینو بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں وقفے وقفے سے ہونے والا اضافہ ہے جو دنیا بھر کے موسمی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جنوبی افریقا میں خشک سالی، ایشیا کے بعض حصوں میں مون سون کی تاخیر اور دیگر علاقوں میں غیر متوقع بارشوں جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ڈبلیو ایف پی کے فوڈ سیکیورٹی اینڈ نیوٹریشن اینالیسز سروس کے ڈائریکٹر ژاں مارٹن باؤر نے کہا کہ ماضی میں ایسے موسمی واقعات نے بڑے پیمانے پر بھوک اور غذائی بحران کو جنم دیا ہے۔
رپورٹ میں 45 ایسے ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے جو ایل نینو کے منفی اثرات کے لیے زیادہ حساس سمجھے جاتے ہیں۔ ادارے کے مطابق شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار افراد کی تعداد تقریباً 4 کروڑ 90 لاکھ اضافے کے بعد 27 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے جو موجودہ سطح کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہوگی۔
کون سے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے؟
ڈبلیو ایف پی کے مطابق وسطی امریکا اور جنوبی افریقہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہوں گے۔ وسطی امریکا میں شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار افراد کی تعداد میں 83 فیصد جبکہ جنوبی افریقہ میں تقریباً 75 فیصد اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقا، جنوبی امریکا اور کیریبین کے علاقوں میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ اضافی افراد شدید غذائی بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ژاں مارٹن باؤر نے کہا کہ اگرچہ 2025 کی بہتر زرعی پیداوار کے باعث عالمی غذائی منڈیاں نسبتاً مستحکم حالت میں ایل نینو کے دور میں داخل ہو رہی ہیں تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور موسم کے باعث فصلوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
WFP is ramping up preparedness and response as #ElNiño threatens to worsen hunger.
A new analysis shows where impacts may hit hardest.
At a time of shrinking humanitarian funding, acting early can help protect lives, livelihoods and reduce the cost of responding later. ⤵️
— World Food Programme (@WFP) August 5, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ ماضی میں ایل نینو کے باعث عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ نہیں دیکھا گیا لیکن علاقائی سطح پر قلت اور مہنگائی غریب اور کمزور خاندانوں کے لیے خوراک تک رسائی مزید مشکل بنا سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: طاقتور طوفان ’باوی‘ تائیوان اور چین کی جانب بڑھنے لگا، بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سنہ 2025 میں امریکا اور یورپی ممالک کی جانب سے امدادی فنڈز میں کمی کے باعث غذائی صورتحال کی نگرانی کا نظام متاثر ہوا ہے۔
باؤر کے مطابق فوڈ سیکیورٹی سے متعلق اعداد و شمار اکٹھا کرنے کا عمل بھی محدود ہو گیا ہے جس سے ابھرتے ہوئے غذائی بحران کی بروقت نشاندہی مشکل ہو سکتی ہے۔
ڈبلیو ایف پی نے بتایا کہ سنہ 2024 میں تقریباً 11 لاکھ گھرانوں کا سروے کیا گیا تھا جو 2025 میں کم ہو کر تقریباً 8 لاکھ رہ گیا جبکہ رواں سال فنڈز کی کمی کے باعث یہ عمل مزید سست پڑ گیا ہے۔
بروقت اقدامات کی ضرورت
ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی افریقہ، ساحل، وسطی امریکا اور کیریبین کے بعض علاقوں میں بارشوں کی کمی کا خدشہ ہے جبکہ صومالیہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی خشک سالی، غیرمتوازن مون سون اور مقامی سطح پر سیلاب زرعی پیداوار کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ڈبلیو ایف پی نے زور دیا کہ اگرچہ موسمی پیش گوئیوں میں تبدیلی کا امکان موجود ہے اور مختلف علاقوں میں اثرات مختلف ہو سکتے ہیں تاہم حکومتوں اور امدادی اداروں کو ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے۔
مزید پڑھیں: دنیا کے 50 گرم ترین شہر ایک ہی ملک میں، جانیے پاکستان کا یہ پڑوسی کون ہے؟
ادارے کے کلائمیٹ اینڈ ریزیلینس سروس کے ڈائریکٹر رچرڈ شولارٹن نے بتایا کہ ڈبلیو ایف پی نے رواں سال 18 ممالک میں پیشگی حفاظتی اقدامات کے پروگراموں کو وسعت دی ہے جن کے ذریعے اب تک 13 لاکھ سے زائد افراد کو نقد امداد اور دیگر معاونت فراہم کی جا چکی ہے تاکہ شدید موسمی حالات کی صورت میں انہیں بروقت سہارا دیا جا سکے۔














