افریقی ترقیاتی بینک کے اعلیٰ موسمیاتی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ متوقع ’سپر ایل نینو‘ سے متاثرہ افریقی ممالک کو مجموعی طور پر 10 سے 20 ارب ڈالر تک کا معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ شدید متاثرہ علاقوں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی متوقع ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے افریقی ترقیاتی بینک کے ڈائریکٹر برائے موسمیاتی تبدیلی اور گرین گروتھ نے کہاکہ اگر بحرالکاہل کے درجہ حرارت میں اضافے کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو ایل نینو دنیا کی تاریخ کے طاقتور ترین موسمی مظاہر میں سے ایک، یعنی ’سپر‘ یا ’گاڈزیلا ایل نینو‘ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
جی ڈی پی میں ایک سے 2 فیصد کمی کا خدشہ
انتھونی نیونگ کے مطابق سپر ایل نینو سے شدید متاثر ہونے والے ممالک کی مجموعی قومی پیداوار میں اوسطاً ایک سے 2 فیصد کمی آ سکتی ہے، جس کا تخمینہ 10 سے 20 ارب ڈالر بنتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ کسی بڑے کثیرالجہتی ترقیاتی بینک کی جانب سے ایل نینو کے ممکنہ معاشی نقصانات کا یہ پہلا باضابطہ تخمینہ ہے، تاہم انہوں نے مختلف ممالک کے لیے الگ الگ اعداد و شمار فراہم نہیں کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے اثرات صرف ایک مرتبہ تک محدود رہنے کا امکان بھی نہیں۔
افریقی معیشت کی ترقی متاثر ہونے کا خدشہ
افریقی ترقیاتی بینک نے مئی میں پیش گوئی کی تھی کہ اگر امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے تو افریقہ کی مجموعی معاشی ترقی کی شرح رواں سال 4.2 فیصد اور 2027 میں 4.4 فیصد رہ سکتی ہے، تاہم یہ تخمینے سپر ’ایل نینو‘ کی پیش گوئی سے قبل جاری کیے گئے تھے۔
خشک سالی، سیلاب اور طوفان مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں
ماہرین کے مطابق ایل نینو کے باعث افریقہ میں شدید خشک سالی، تباہ کن سیلاب اور طاقتور طوفانوں کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ساحل کے خطے میں جاری خشک سالی برقرار رہ سکتی ہے، جبکہ موزمبیق میں 2019 کے سائیکلون ’ایدائی‘ کے بعد ہونے والی تباہی اس بات کی مثال ہے کہ بڑے موسمی سانحات سے بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
حکومتیں ’کلائمیٹ فنانس ٹریپ‘ کا شکار
انتھونی نیونگ نے کہاکہ متعدد افریقی حکومتیں ’کلائمیٹ فنانس ٹریپ‘ کا شکار ہو رہی ہیں، جہاں موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے وسائل نہ ہونے کے باعث انہیں صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے بجٹ سے فنڈز منتقل کرنا پڑتے ہیں۔
گزشتہ ایل نینو نے بھی تباہی مچائی
رپورٹ کے مطابق 24-2023 کے ایل نینو نے جنوبی افریقہ میں شدید خشک سالی جبکہ مشرقی افریقہ میں موسلا دھار بارشوں اور تباہ کن سیلاب کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں فصلیں تباہ ہوئیں، خوراک کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور افریقی ساحلی علاقوں میں سمندر کی سطح ریکارڈ حد تک بلند ہوئی۔
افریقی ترقیاتی بینک کے اندازے کے مطابق رواں سال افریقی کسانوں کو پہلے ہی 330 ملین ڈالر کے قریب آمدنی کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ سمندر کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور طوفانوں کے باعث ماہی گیری کی صنعت بھی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
موسمیاتی تبدیلی افریقی ممالک کو غربت کی طرف دھکیل سکتی ہے
انتھونی نیونگ نے کہاکہ جب بھی ایسے موسمی جھٹکے آتے ہیں تو ممالک ترقی کے سفر میں دو قدم پیچھے چلے جاتے ہیں، اور بینک نہیں چاہتا کہ افریقی ممالک دوبارہ غربت کی دلدل میں دھکیل دیے جائیں۔
ستمبر میں خصوصی اجلاس، منصوبوں پر نظرثانی کی تیاری
افریقی ترقیاتی بینک نے اعلان کیا ہے کہ ستمبر میں بینک کی سطح پر خصوصی سیمینار منعقد کیا جائےگا، جس میں ’سپر ایل نینو‘ کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جائےگا اور جاری و مجوزہ منصوبوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائےگا۔
انتھونی نیونگ نے کہاکہ بینک ضرورت پڑنے پر منصوبوں کی تشکیل نو کرے گا تاکہ ممالک ایل نینو کے اثرات سے نمٹ سکیں، جبکہ انہیں گرین کلائمیٹ فنڈ سمیت دیگر عالمی مالیاتی ذرائع سے بھی اضافی امداد حاصل کرنے میں مدد دی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ ایڈاپٹیشن فنڈ، کلائمیٹ انویسٹمنٹ فنڈز اور نقصان و خسارے سے متعلق نئے مالیاتی نظام بھی ممکنہ معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اربوں ڈالر درکار
اقوام متحدہ کی اکتوبر میں جاری رپورٹ کے مطابق 2035 تک ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے سالانہ 365 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جبکہ 2023 میں بین الاقوامی سطح پر موافقت کے لیے صرف 26 ارب ڈالر کی سرکاری مالی معاونت فراہم کی گئی۔
انتھونی نیونگ نے کہاکہ متوقع سپر ایل نینو کے باعث افریقہ کو صرف رواں سال ہی 100 ارب ڈالر تک درکار ہو سکتے ہیں، جبکہ پہلے ہی اگلے 12 ماہ کے لیے تقریباً 50 ارب ڈالر کی ضرورت تھی، جس میں مزید 30 سے 50 ارب ڈالر کا اضافہ ہو جائے گا۔
بڑے پیمانے پر ہجرت اور خوراک کے بحران کا خدشہ
انتھونی نیونگ نے خبردار کیاکہ سپر ایل نینو کے باعث سوڈان، جنوبی سوڈان، جمہوریہ کانگو، صومالیہ، مالی، برونڈی اور نائجیریا جیسے ممالک شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ایل نینو کے بعد بڑے پیمانے پر نقل مکانی ناگزیر ہو سکتی ہے، جبکہ متعدد متاثرہ ممالک میں بنیادی غذائی اجناس میں شامل مکئی کی قیمت دوگنی ہونے کا خدشہ ہے۔
ان کے مطابق خوراک، چراگاہوں اور پانی کے محدود وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ پہلے سے کمزور علاقوں میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے، جبکہ زرعی شعبے کو 327 ملین ڈالر تک نقصان اور ماہی گیری کی پیداوار میں ایک سے چار فیصد کمی کا امکان ہے۔
عالمی برادری کو پیشگی اقدامات کی ضرورت
انتھونی نیونگ نے زور دیا کہ قدرتی آفات کے رونما ہونے سے پہلے افریقی ممالک کی موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ ان کے بقول یہی موضوع نومبر میں ترکی میں ہونے والے آئندہ عالمی موسمیاتی مذاکرات کا بھی مرکزی محور ہوگا۔
انہوں نے کہا، ’کسی گہری کھائی کے گرد باڑ لگانا اس سے کہیں سستا ہے کہ نیچے لوگوں کے گرنے کا انتظار کرتے ہوئے مہنگی ایمبولینسیں کھڑی رکھی جائیں، اس لیے ہمیں پہلے سے حفاظتی باڑ تعمیر کرنی چاہیے۔‘













