بحرالکاہل میں بننے والا طاقتور طوفان ’باوی‘ تیزی سے تائیوان اور مشرقی چین کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے پیشِ نظر تائیوان، چین اور جاپان میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو خوراک، پانی اور ہنگامی سامان ذخیرہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ 2024 کے بعد خطے کا طاقتور ترین طوفان ثابت ہو سکتا ہے۔
بحرالکاہل میں تشکیل پانے والا طاقتور طوفان ’باوی‘ تائیوان کے جنوب مشرق میں سمندر کے اوپر مسلسل پیش قدمی کر رہا ہے، جبکہ اس کی رفتار میں معمولی کمی کے باوجود ہواؤں کی رفتار تقریباً 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب برقرار ہے۔
🌀Super #TyphoonBavi rapidly intensified over exceptionally warm Pacific waters made up to 80x more likely by climate change.
Before reaching Taiwan this weekend with winds as high as 130 mph, it is expected to cross ocean waters made 10–40x more likely by climate change. pic.twitter.com/z0tGRgwIVM
— Climate Central (@ClimateCentral) July 8, 2026
چین کے قومی محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان شمالی تائیوان کے قریب سے گزرنے کے بعد ہفتہ کی شام مشرقی چینی صوبے فوجیان کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ حجم کے اعتبار سے یہ 1987 کے بعد تائیوان سے ٹکرانے والا سب سے بڑا طوفان ہو سکتا ہے، جبکہ اگر اس کی شدت برقرار رہی تو یہ 2024 کے سپر ٹائفون ’کونگ رے‘ کے بعد ایشیا بحرالکاہل کا طاقتور ترین طوفان ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:ملک کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں کا الرٹ، اسلام آباد و راولپنڈی میں اربن فلڈنگ کا خدشہ
تائیوان کے صدر لائی چنگ دے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خوراک، پینے کا پانی، ٹارچ، ادویات اور دیگر ضروری اشیا پر مشتمل ہنگامی بیگ تیار رکھیں، جو کم از کم تین دن تک ضروریات پوری کر سکے۔
دوسری جانب جاپان کے محکمہ موسمیات نے اوکیناوا کے رہائشیوں کو تیز ہواؤں، لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب اور سمندری طغیانی کے خطرات کے پیش نظر جمعہ اور ہفتہ کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
台风蓝色预警发布,超强台风“巴威”最新预报
TYPHOON ALERT! At 18:00 on Jul. 8, #China’s National Meteorological Center (NMC) of CMA issued a blue alert for #Typhoon #Bavi. The typhoon is forecast to make landfall on or brush past the northern coast of #Taiwan during the daytime of… pic.twitter.com/GT92cHRgZ0— Beijing Daily (@DailyBeijing) July 9, 2026
برطانوی ادارے امپیریل کالج لندن سے وابستہ ماہرِ استوائی طوفان ژیانگ بو فینگ کے مطابق طوفان باوی نے بحرالکاہل کے گرم پانیوں سے طویل عرصے تک توانائی اور نمی حاصل کی ہے، جس کے باعث ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کی صورت میں اس سے ہونے والا نقصان انتہائی تباہ کن ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول طوفان کے راستے میں معمولی تبدیلی بھی متاثرہ علاقوں پر بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین، تائیوان اور جاپان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید موسمی واقعات کا زیادہ سامنا کر رہے ہیں، جبکہ رواں سال متوقع ایل نینو کے باعث زیادہ طاقتور اور بار بار آنے والے سمندری طوفانوں کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔














