نوسرباز آپ کی آواز چرا سکتے ہیں لیکن ایک راز نہیں جان سکتے، جانیے اے آئی فراڈ سے بچنے کا مؤثر طریقہ

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی مدد سے ہونے والے ڈیپ فیک فراڈ تیزی سے بڑھ رہے ہیں جہاں دھوکے باز کسی عزیز کی آواز کی نقل کر کے لوگوں کو خوفزدہ کرتے اور بڑی رقم ہتھیانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بڑھتے ہوئے سائبر فراڈز میں اے آئی کا استعمال، جعل سازی سے کیسے بچا جائے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف چند منٹ کی تیاری اور خاندان کے درمیان ایک خفیہ کوڈ ورڈ طے کر لینا ایسے فراڈ سے بچانے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔

امریکا کی ریاست نیویارک کے شہر بفیلو سے تعلق رکھنے والی الزبتھ بینز نے بتایا کہ ستمبر 2025 میں انہیں ایک فون کال موصول ہوئی جس میں انہیں اپنے 16 سالہ بیٹے جان کی روتی ہوئی آواز سنائی دی۔

بعد ازاں ایک نامعلوم شخص نے دعویٰ کیا کہ اس نے جان کے دوست کو قتل کر دیا ہے اور اگر وہ ساڑھے 7 ہزار ڈالر نہ لائیں تو ان کے بیٹے کو بھی قتل کر دیا جائے گا۔

الزبتھ خوفزدہ ہو کر رقم لے کر روانہ ہوگئیں تاہم خوش قسمتی سے ان کے دوسرے بیٹے نے جان سے رابطہ کر لیا جو اس وقت فٹبال میچ دیکھ رہا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سب اے آئی ڈیپ فیک کے ذریعے تیار کی گئی جعلی آواز تھی۔

فراڈ سے بچنے کے لیے خفیہ کوڈ ورڈ تجویز

سائبر سیکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خاندان کے افراد کو پہلے سے ایک ایسا خفیہ لفظ یا جملہ طے کر لینا چاہیے جو صرف انہیں معلوم ہو۔ اگر کسی ہنگامی صورتحال میں فون کال آئے تو پہلے اسی کوڈ ورڈ کے ذریعے شناخت کی تصدیق کی جائے۔

مزید پڑھیے: واٹس ایپ ہیکنگ اور سائبر فراڈ سے بچاؤ، پی ٹی اے کی صارفین کو ہشیار رہنے کی ہدایت

ماہرین کے مطابق ایسا کوڈ ورڈ منتخب کیا جائے جو یاد رکھنا آسان لیکن دوسروں کے لیے اندازہ لگانا مشکل ہو مثلاً خاندان کا کوئی پرانا مذاق یا ایسی بات جو صرف قریبی افراد جانتے ہوں۔

گھبراہٹ سب سے بڑی کمزوری

الزبتھ بینز کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان نے پہلے ہی ایک خفیہ پاس ورڈ طے کیا ہوا تھا مگر کال کے دوران وہ اس قدر خوفزدہ ہوگئیں کہ انہیں اسے پوچھنے کا خیال ہی نہ آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فراڈی افراد جان بوجھ کر ایسی صورتحال پیدا کرتے ہیں جس میں متاثرہ شخص سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے اس لیے ذہنی طور پر پہلے سے تیار رہنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کوڈ ورڈ بنانا۔

آن لائن فراڈ میں تیزی سے اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق صرف امریکا میں سنہ 2025 کے دوران آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم سے تقریباً 148 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 26 فیصد زیادہ تھا۔ ان میں سے 6.3 ارب ڈالر کا تعلق مصنوعی ذہانت سے ہونے والے فراڈ سے تھا جبکہ ماہرین کے مطابق ایسے جرائم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں: آن لائن شاپنگ: بھارتی اداکار اُپندر اور اُن کی اہلیہ بڑے سائبر فراڈ کا کیسے شکار ہوئے؟

ڈیپ فیک کے معروف ماہر اور گیٹ ریئل سیکیورٹی کے شریک بانی ہینی فرید کا کہنا ہے کہ یہ خطرہ فرضی نہیں بلکہ دنیا بھر میں حقیقی واقعات پیش آ رہے ہیں اس لیے ہر خاندان کو پہلے سے حفاظتی اقدامات اختیار کرنے چاہییں۔

فراڈیوں کی 3 عام چالیں

ماہرین کے مطابق ایسے فراڈ میں عموماً 3 واضح نشانیاں سامنے آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ متاثرہ شخص پر فوری فیصلہ کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ رقم ہمیشہ ایسے طریقوں سے مانگی جاتی ہے جن کا سراغ لگانا مشکل ہو جیسے نقد رقم، گفٹ کارڈ یا کرپٹو کرنسی۔ تیسری یہ کہ متاثرہ شخص کو کسی اور سے رابطہ کرنے یا مشورہ لینے سے روکا جاتا ہے۔

ذہنی مشق بھی ضروری

سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف کوڈ ورڈ بنانا کافی نہیں بلکہ خاندان کے افراد کو وقتاً فوقتاً اس کی یاد دہانی بھی کرانی چاہیے۔

بعض ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ہر چند ماہ بعد موبائل میں یاد دہانی (ری مائنڈر) لگا کر خاندان کے ساتھ اس کوڈ ورڈ اور ہنگامی صورتحال میں اختیار کیے جانے والے طریقہ کار پر مختصر مشق کی جائے۔

ان کے مطابق اگر کبھی کسی عزیز کی جانب سے ہنگامی نوعیت کی کال موصول ہو تو گھبرانے کے بجائے پہلے خفیہ کوڈ ورڈ پوچھیں پھر کسی دوسرے ذریعے سے متعلقہ شخص سے رابطہ کر کے صورتحال کی تصدیق کریں اور اس کے بعد ہی کوئی مالی یا عملی قدم اٹھائیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: محبت کی آڑ میں آن لائن فراڈ: نوسربازوں سے کیسے بچا جائے؟

ماہرین کے مطابق فراڈی اب صرف فون کالز ہی نہیں بلکہ ویڈیو کالز، وائس نوٹس اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز (ڈیپ فیک) کے ذریعے بھی لوگوں کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں اس لیے کسی بھی غیر معمولی درخواست پر فوری یقین کرنے کے بجائے آزادانہ طور پر تصدیق کرنا ضروری ہے۔

مزید برآں ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کسی عزیز کی طرف سے ہنگامی صورتحال میں رقم بھیجنے یا فوری مدد کی درخواست موصول ہو تو گھبرانے کے بجائے پہلے فون منقطع کر کے متعلقہ شخص سے کسی دوسرے نمبر یا ذریعے سے رابطہ کریں۔ اگر رابطہ نہ ہو سکے تو خاندان کے کسی دوسرے فرد یا قابل اعتماد شخص سے تصدیق کے بعد ہی کوئی مالی یا عملی قدم اٹھائیں۔

پاکستان میں ایسے فراڈز کے مختلف طریقے

پاکستان میں اس نوعیت کی فون کالز اور آن لائن فراڈ کے واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سینیٹ کمیٹی کا اسپیکٹرم کی نیلامی میں تاخیر اظہار تشویش، سائبر فراڈز پر فوری اصلاحات کا مطالبہ

مختلف شہروں میں بعض افراد کو ایسے فون موصول ہوتے ہیں جن میں کال کرنے والا خود کو پولیس، کسی سرکاری ادارے یا اسپتال کا اہلکار ظاہر کرکے دعویٰ کرتا ہے کہ ان کا بیٹا، بیٹی یا کوئی قریبی رشتہ دار کسی حادثے، گرفتاری یا قانونی مسئلے میں پھنس گیا ہے اور فوری طور پر رقم بھیجنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے فراڈ کا مقصد متاثرہ شخص کو اچانک خوف، گھبراہٹ اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کرکے سوچنے کا موقع نہ دینا ہوتا ہے۔ اسی لیے شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ ایسی کسی بھی کال پر فوری یقین کرنے کے بجائے پہلے متعلقہ عزیز سے براہِ راست رابطہ کریں یا کسی دوسرے قابلِ اعتماد فرد کے ذریعے اس کی خیریت کی تصدیق کریں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کال کرنے والا جلد بازی میں رقم بھیجنے، خفیہ رکھنے یا کسی مخصوص اکاؤنٹ یا ڈیجیٹل والٹ میں ادائیگی کا مطالبہ کرے تو اسے خطرے کی علامت سمجھا جائے۔

مزید پڑھیے: واٹس ایپ ہیکنگ سے وائس کلوننگ تک، آن لائن فراڈ کے نت نئے طریقے

علاوہ ازیں ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے باعث مستقبل میں جعلی آوازوں اور ویڈیوز کے ذریعے دھوکا دہی کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایسے میں خاندان کے افراد کے درمیان ایک خفیہ کوڈ ورڈ یا مخصوص سوال طے کرنا، غیر معمولی حالات میں شناخت کی تصدیق کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے جبکہ کسی بھی مشکوک کال یا آن لائن فراڈ کی متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں یا سائبر کرائم حکام کو اطلاع دینی بھی ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp