پاکستان کے سابق فاسٹ بولر وقار یونس نے بابر اعظم کو دوبارہ ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا کپتان بنانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیادت کی ذمہ داری اسٹار بیٹر کی انفرادی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔
بابر اعظم اس سے قبل 2020 سے 2023 تک 20 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی قیادت کر چکے ہیں۔ انہیں جولائی میں تجربہ کار ٹاپ آرڈر بیٹر شان مسعود کی جگہ دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا۔ شان مسعود کی قیادت میں پاکستان نے 16 میں سے صرف 4 میچز میں کامیابی حاصل کی۔
شان مسعود کے دورِ کپتانی میں پاکستان کو 12 میچز میں شکست ہوئی، جن میں بنگلہ دیش کے خلاف 2 ٹیسٹ سیریز میں 0-2 کی شکست بھی شامل تھی، جبکہ ان کی قیادت میں پاکستان نے واحد سیریز فتح 2024 میں انگلینڈ کے خلاف حاصل کی۔
دوبارہ ٹیسٹ کپتان بننے کے بعد بابر اعظم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 2 میچز پر مشتمل سیریز میں پاکستان کی قیادت کی، جو ایک، ایک سے برابر رہی۔
اس کے بعد بابر اعظم کی قیادت میں قومی ٹیم نے انگلینڈ کا دورہ کیا، جہاں 3 میچز کی سیریز میں پاکستان کو 0-3 سے شکست ہوئی۔ انگلینڈ نے ہوم سیریز میں پہلی مرتبہ پاکستان کے خلاف کلین سوئپ کامیابی حاصل کی۔
بابر اعظم کی دوسری مرتبہ ٹیسٹ کپتانی کے ملے جلے آغاز کے بعد وقار یونس نے ایک تقریب کے دوران بابر اعظم کی بیٹنگ تکنیک کو سراہا، تاہم کہا کہ 31 سالہ بیٹر کپتانی کا بہت زیادہ دباؤ اپنے اوپر لے لیتے ہیں، جس کے باعث وہ اپنی صلاحیت کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا پاتے۔
وقار یونس نے کہا، ’میں نے اسے ایک کھلاڑی کی حیثیت سے دیکھا ہے۔ تکنیکی اعتبار سے وہ بہت مضبوط، مکمل اور پُرکشش انداز میں کھیلنے والا بیٹر ہے۔ بطور کھلاڑی مجھے ذاتی طور پر اس میں کوئی خامی نظر نہیں آتی، لیکن میرا خیال ہے کہ کپتانی کے دباؤ میں وہ بہت زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر لے لیتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’جب بھی وہ یہ ذمہ داری لیتا ہے یا اسے دی جاتی ہے تو میرے خیال میں وہ اتنی اچھی کارکردگی نہیں دکھا پاتا۔‘
سابق فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ اگر ہم اسے یہ ذمہ داری دیتے ہیں تو میرے خیال میں ہم ایک کھلاڑی سے محروم ہو رہے ہیں، کیونکہ اسے اس دباؤ کو سنبھالنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ آپ کو ایک شخص کی حیثیت سے مضبوط ہونا چاہیے، اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے اور ان پر مکمل اعتماد کرنا چاہیے۔ اگر آپ اپنے کھلاڑیوں کا ساتھ نہیں دے سکتے تو یہ کھلاڑیوں اور اس ذمہ داری دونوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔














