وزارتِ خزانہ نے پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق گمراہ کن رپورٹنگ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام حکومت کا مجموعی پروگرام ہے، یہ صرف وزارتِ خزانہ تک محدود نہیں۔ پروگرام میں وزارتِ خزانہ، منصوبہ بندی، توانائی، صوبائی حکومتوں، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ ادارے شامل ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق متعلقہ وزارتیں اور ادارے اپنے دائرہ کار سے متعلق اصلاحات اور اہداف کے تعین کے لیے تکنیکی مذاکرات میں حصہ لیتے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام صرف اعداد و شمار یا مالیاتی اہداف تک محدود نہیں، بلکہ اس میں معاشی ترقی، سماجی تحفظ، گورننس، توانائی کے شعبے میں بہتری اور موسمیاتی لچک سمیت وسیع پیمانے پر اصلاحات شامل ہیں۔
وزارتِ خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد معاشی استحکام کے ساتھ پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی آئی ایم ایف پروگرام کا مرکزی نکتہ نہیں، بلکہ یہ متعدد محصولاتی ذرائع میں سے ایک ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کی مالیاتی حکمتِ عملی میں ایف بی آر کے محصولات میں اضافہ، ٹیکس بنیاد میں توسیع، صوبائی ٹیکسوں اور اخراجات کو معقول بنانے سمیت متعدد اقدامات شامل ہیں۔ مالی سال 27-2026 کے پروگرام میں اضافی محصولات کے حصول اور ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ نے واضح کیاکہ پیٹرولیم قیمتوں کی پالیسی آئی ایم ایف پروگرام کے متفقہ فریم ورک کا حصہ ہے، جبکہ پیٹرولیم قیمتوں کو عالمی قیمتوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے باقاعدہ ایڈجسٹمنٹ بھی پروگرام کا حصہ ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق افراطِ زر، بے روزگاری، غربت اور کم شرح نمو کو کسی ایک مالیاتی ذریعے سے براہِ راست منسلک کرنا درست نہیں۔ پاکستان کے معاشی نتائج پر عالمی و ملکی اجناس کی قیمتوں، شرحِ مبادلہ، مالیاتی و زری حالات، مالیاتی عدم توازن، بیرونی مالیاتی وسائل کی محدود دستیابی اور عالمی حالات سمیت متعدد عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔
وزارت خزانہ نے کہا کہ مالیاتی استحکام کو اقتصادی ترقی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مالیاتی پائیداری کی بحالی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور ری فنانسنگ کے خطرات میں کمی پائیدار نجی سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ مالیاتی استحکام نے معاشی عدم توازن اور طلب کے دباؤ میں کمی، مہنگائی میں کمی اور بیرونی شعبے کے استحکام میں معاونت کی ہے۔ تاہم مالیاتی استحکام کے اقدامات سماجی تحفظ کے بغیر نہیں کیے گئے، کیونکہ آئی ایم ایف پروگرام میں سماجی تحفظ کے لیے واضح اہداف شامل ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ہدفی نقد معاونت اور نقد امداد کو مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کے اقدامات بھی پروگرام کا حصہ ہیں۔ کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے ہدفی، عارضی اور مالی طور پر پائیدار اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزارتِ خزانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ مالی سال میں قرضوں میں اضافے کی رفتار دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر رہی۔
زرعی شعبے سے متعلق اصلاحات کے حوالے سے وزارتِ خزانہ نے کہا کہ یہ صرف وزارتِ خزانہ کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ان میں متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کا کردار شامل ہے۔ زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنا آئینی اور انتظامی طور پر صوبائی ذمہ داری ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق اس کی ذمہ داری مجموعی پروگرام کی رابطہ کاری ہے، جبکہ پالیسی سازی اور عملدرآمد متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
وزارتِ خزانہ نے کہا کہ مناسب پالیسی بحث استحکام بمقابلہ ترقی نہیں، بلکہ معاشی استحکام سے پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب منتقلی کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کی طرح مالیاتی اور بیرونی عدم توازن دوبارہ آئی ایم ایف کے استحکامی پروگرام کی ضرورت پیدا نہ کرے۔














