سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے سولر رجحان کے بعد اب توانائی کے شعبے کے ماہرین نے بیٹری اسٹوریج، اسمارٹ گرڈز اور جدید توانائی نظام کو مستقبل کی اہم ضرورت قرار دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سولر بجلی کی استعداد 38 ہزار میگاواٹ کے قریب، 2035 تک 90 فیصد صاف توانائی کا ہدف، اویس لغاری

اسلام آباد میں منعقدہ سولر، ستوریج اور فلیکسیبلیٹی  کانفرنس میں پالیسی سازوں، توانائی ماہرین، ریگولیٹرز، سرمایہ کاروں اور سولر انڈسٹری کے نمائندوں نے پاکستان کے بدلتے ہوئے توانائی منظرنامے پر تبادلہ خیال کیا۔

کانفرنس میں ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سولر کا پھیلاؤ صارفین کی سطح پر ایک بڑی تبدیلی لے کر آیا ہے تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس توانائی کو قومی گرڈ کے ساتھ بہتر انداز میں مربوط کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے بیٹری اسٹوریج سسٹمز، ورچوئل پاور پلانٹس، اسمارٹ گرڈز اور برقی گاڑیوں کے لیے نئی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔

توانائی ماہرین کے مطابق پاکستان میں گھریلو اور کمرشل سولر تنصیبات میں تیزی نے بجلی کی طلب اور رسد کے روایتی نظام کو تبدیل کر دیا ہے۔ دن کے اوقات میں سولر سے اضافی بجلی پیدا ہونے جبکہ شام کے اوقات میں طلب بڑھنے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اسٹوریج سلوشنز کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سولر شعبے کی ترقی کو پائیدار بنانے کے لیے واضح پالیسی، بہتر ریگولیٹری فریم ورک اور صارفین کے لیے قابل اعتماد نظام ضروری ہے۔

مزید پڑھیے: سولر صارفین کے لیے اہم خبر، نئی سولر پالیسی میں بڑی سہولت مل گئی

ماہرین نے کہا کہ پاکستان کو صرف سولر پینلز کی درآمد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ بیٹری مینوفیکچرنگ، توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی اور مقامی صنعت کے فروغ پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

شرکا نے کہا کہ پاکستان کا توانائی مستقبل صرف بجلی پیدا کرنے سے نہیں بلکہ توانائی کو مؤثر انداز میں منظم کرنے سے وابستہ ہے۔ سولر، اسٹوریج اور لچکدار توانائی نظام ملک کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور توانائی تحفظ بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

کانفرنس کے ایک سیشن میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں توانائی کے شعبے کے کردار پر بھی گفتگو کی گئی۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جس کے لیے صاف اور پائیدار توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سولر توانائی نہ صرف فوسل فیول پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی حکمت عملی کا اہم حصہ بھی بن سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں خاموش سولر انقلاب، 5 برسوں میں 50 گیگاواٹ سے زائد صلاحیت کے سولر پینلز درآمد

پاکستان میں سولر توانائی کا سفر اب صرف بجلی کے متبادل ذریعے سے آگے بڑھ کر ایک نئے توانائی نظام کی تشکیل کی طرف جا رہا ہے جہاں صارفین صرف بجلی استعمال کرنے والے نہیں بلکہ توانائی پیدا کرنے والے شراکت دار بھی بن رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp