برطانیہ کی 97 سالہ خاتون بیٹی برومیج نے ایک بار پھر دنیا کو حیران کرتے ہوئے ہوائی جہاز کے پروں پر کھڑے ہو کر ونگ واک (Wing Walking) کا خطرناک کرتب انجام دیا اور اس کے ساتھ ہی اپنا ہی گنیز ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا۔
برطانوی شہر چیلٹنہم سے تعلق رکھنے والی بیٹی برومیج نے منگل کے روز سرینسسٹر کے آر ایف سی رینڈکومب ایئر فیلڈ میں یہ کارنامہ انجام دیا۔ اس وقت ان کی عمر 97 سال اور 127 دن تھی۔
اس کامیاب ونگ واک کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر دنیا کی معمر ترین خاتون ونگ واکر قرار پائیں۔ انہوں نے اس سے قبل 2022 میں 93 برس کی عمر میں بھی یہی عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے خوف سے محبت تک، شارک نے خاتون کو گنیز ورلڈ ریکارڈ دلا دیا
بیٹی برومیج 87 سال کی عمر سے اب تک چھ مرتبہ ونگ واک کر چکی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ زندگی کو بھرپور انداز میں جینے پر یقین رکھتی ہیں۔
انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’اگر میں یہ سب نہ کروں تو زندگی بور ہو جائے گی۔ میں اب گاڑی نہیں چلا سکتی، نظر بھی کمزور ہے اور بعض اوقات مایوسی ہوتی ہے، اس لیے میں وہ سب کرنا چاہتی ہوں جو اب بھی میرے بس میں ہے۔‘
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بیٹی برومیج گزشتہ سال اگست 2025 میں فالج کا شکار ہوئی تھیں، جس کے اثرات اب بھی ان کی گفتگو پر موجود ہیں، تاہم اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔
انہوں نے بتایا، ’فالج کے باعث میری بولنے کی صلاحیت ضرور متاثر ہوئی ہے، لیکن باقی سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے گنیز ورلڈ ریکارڈز نے سلطان گولڈن کے 2 نئے عالمی ریکارڈ تسلیم کر لیے
اس ونگ واک کا مقصد صرف ریکارڈ قائم کرنا نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے انہوں نے چیلٹنہم جنرل اسپتال کے فالج وارڈ کے لیے عطیات بھی جمع کیے، جہاں گزشتہ سال ان کا علاج کیا گیا تھا۔
بیٹی برومیج نے اسپتال کے عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’انہوں نے میری بہت اچھی دیکھ بھال کی، اسی لیے میں ان کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی۔‘
بیٹی برومیج کی یہ کامیابی اس بات کی ایک متاثر کن مثال سمجھی جا رہی ہے کہ عزم، حوصلے اور مثبت سوچ کے ساتھ عمر یا بیماری بھی انسان کے ارادوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔














