فتنہ الخوارج کے سربراہ خارجی نور ولی محسود (کے این ڈبلیو) نے ایک ویڈیو میں قرآنِ مجید کی ایک آیت کی مبینہ طور پر غلط تشریح کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی ترغیب دی ہے۔
نور ولی محسود نے سورۃ التوبہ کی آیت 5 کو اس کے تاریخی پس منظر سے الگ کرکے پیش کیا، حالانکہ یہ آیت عہد شکنی کرنے والے مشرکین کے ایک مخصوص تاریخی واقعے سے متعلق ہے اور اسے کبھی بھی مسلمانوں کے قتل کے جواز کے طور پر نہیں سمجھا گیا۔
مزید پڑھیں:جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن کا نور ولی محسود سے لاتعلقی کا اعلان
قرآنِ مجید بے گناہ انسانی جان کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔ اس ضمن میں سورۃ المائدہ کی آیت 32 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’جس نے کسی بے گناہ شخص کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔‘
نور ولی محسود مذہبی تعلیمات کو دہشتگردی کے جواز کے لیے استعمال کرتے ہوئے مسلم فوجیوں، پولیس، رینجرز اور دیگر اہلکاروں کو ہدف قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے مرکزی دھارے کے اسلامی علما نے تکفیر اور شدت پسندی پر مبنی نظریہ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
واضح رہے کہ قریباً 2 ہزار پاکستانی علما کی تائید سے جاری ہونے والے ’پیغامِ پاکستان‘ میں دہشتگردی، مسلح بغاوت، خودکش حملوں، تکفیر اور بے گناہ افراد کے قتل کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
قرآنِ مجید کی سورۃ البقرہ کی آیت 190 میں واضح ہدایت کی گئی ہے کہ ’جو تم سے لڑتے ہیں ان سے اللہ کی راہ میں لڑو، مگر زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘
مزید پڑھیں:پاکستان میں دہشتگردی، کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کی خفیہ کال پکڑی گئی
نور ولی محسود کا طرزِ عمل تاریخی خوارج سے مشابہ ہے، جن پر الزام تھا کہ وہ قرآن کی آیات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر تشدد، بغاوت اور مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔
نور ولی محسود کی اس نوعیت کی غلط تشریحات کو علمی بنیادوں پر بے نقاب کرنا اسلام کی حقیقی تعلیمات اور معاشرے کو انتہاپسندی سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔













