تہران واشنگٹن مذاکرات: ماہرین نے امریکا کو ایران کی حکمتِ عملی سے خبردار کردیا

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران جوہری امور کے ماہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو مرکزی حیثیت دیں اور تہران کو آبنائے ہرمز کے مسئلے کے ذریعے پابندیوں میں نرمی یا دیگر رعایتیں حاصل کرنے کا موقع نہ دیں۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC) کے سربراہ احمد وحیدی نے بدھ کے روز کہا کہ جب تک امریکا اور اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، ایران بھی اپنی قومی سلامتی کے لیے جوہری پروگرام جاری رکھے گا۔

احمد وحیدی نے کہا، ’اگر امریکا اور اسرائیل اپنے جوہری ہتھیار ختم کر دیں تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے، لیکن جب تک ان کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے، ہم اپنا پروگرام جاری رکھیں گے۔‘

ٹرمپ کا مؤقف

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران مذاکرات سے پیچھے ہٹا تو امریکا کے پاس فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے ایران امریکا مذاکرات کا اصل امتحان شروع، اگلے 60 دن فیصلہ کن، آگے کیا ہوگا؟

انہوں نے کہا، ’اگر وہ دوبارہ مذاکرات سے پیچھے ہٹے تو انہیں بہت سخت جواب ملے گا۔ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

ٹرمپ کے مطابق منگل کو امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان پورا دن مذاکرات ہوئے، جو ان کے بقول ’انتہائی مثبت‘ رہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں مذاکرات کا محور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، جس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔

ماہرین نے کیا خدشات ظاہر کیے؟

فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کی نائب ڈائریکٹر اینڈریا اسٹرکر کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کی ترتیب ایران کی خواہش کے مطابق رہی تو تہران پہلے آبنائے ہرمز، پابندیوں میں نرمی اور دیگر مراعات حاصل کر لے گا، جبکہ بعد میں جوہری پروگرام پر امریکا کے پاس دباؤ ڈالنے کے مؤثر ذرائع باقی نہیں رہیں گے۔

ان کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ اس کے یورینیم کے ذخائر، جوہری تنصیبات اور افزودگی کے پروگرام پر بنیادی رعایتیں دینے سے پہلے زیادہ سے زیادہ اقتصادی فوائد حاصل کر لیے جائیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے یہی حکمت عملی اختیار کی تو مستقبل میں ایران سے جوہری پروگرام پر بڑی رعایتیں لینا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

ایران کی ممکنہ حکمت عملی

رپورٹس کے مطابق ایران نے پہلے بھی تجویز دی تھی کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور جنگ ختم کی جائے، جس کے بعد جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع ہوں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ تہران اس وقت اپنی توجہ آبنائے ہرمز پر اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ جوہری پابندیوں کے معاملے پر فوری پیش رفت میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہا۔

آئی اے ای اے کے معائنوں کی بحالی پر زور

آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کی ماہر کیلسی ڈیون پورٹ نے کہا کہ کسی بھی تفصیلی جوہری مذاکرات سے پہلے ضروری ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ایرانی جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی دی جائے۔

ان کے مطابق ایک سال سے زائد عرصے سے آئی اے ای اے کے معائنہ کار ایران کی اہم جوہری تنصیبات کا معائنہ نہیں کر سکے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ ایران کے پاس اس وقت کتنی جوہری صلاحیت باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیے سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکا مذاکرات کو تعطل سے بچانے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، طلعت حسین

انہوں نے تجویز دی کہ امریکا ایران کو مرحلہ وار اور قابلِ تصدیق اقدامات کے بدلے محدود پابندیوں میں نرمی دے، تاکہ اعتماد سازی بھی ہو اور ایران کے جوہری پروگرام پر مؤثر نگرانی بھی برقرار رہے۔

آبنائے ہرمز پر مذاکرات بھی جاری

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان زیر غور مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کے انتظام میں ایران کو محدود کردار دیا جا سکتا ہے، جبکہ ایران اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہے۔

تاہم امریکا ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول یا لازمی ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کا اختیار دینے کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جوہری پروگرام کو مذاکرات کے آخری مرحلے تک مؤخر کر دیا گیا تو ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر، جوہری انفراسٹرکچر اور حساس ٹیکنالوجی کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو سکتا ہے، جس سے مستقبل میں خطے کے امن و استحکام کو دوبارہ خطرات لاحق ہونے کا خدشہ رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

میٹا کے کیمرہ نصب سمارٹ چشموں پر برطانیہ میں رازداری کے خدشات، کئی مقامات پر پابندی

وزیراعظم شہباز شریف سے سفیرجیانگ زیڈونگ کی ملاقات، چینی صدر شی جن پنگ کا خط پہنچایا

فیک نیوز روکنے کے لیے صحافتی برادری کو کردار ادا کرنا ہوگا، عظمیٰ بخاری

پشاور: افغان باشندوں کے غیر قانونی شناختی کارڈز کے خلاف کارروائیاں تیز، متعدد بازاروں میں آپریشن جاری

ویڈیو

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب روانہ، سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے اہم ملاقات کریں گے

وزیراعظم، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ سعودی عرب آج سے، خطے کی صورتحال اور فلسطین سمیت اہم امور پر مشاورت ہوگی، دفتر خارجہ

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ