میٹا نے انکشاف کیا ہے کہ اس کا ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران غلط کنفیگریشن کی وجہ سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے بعد ایک دوسری کمپنی کے سسٹم میں موجود سیکیورٹی کمزوری سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوگیا۔ اس واقعے نے جدید اے آئی ماڈلز سے وابستہ سائبر سیکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
میٹا نے بدھ کے روز بتایا کہ سائبر سیکیورٹی جانچ کے دوران اس کے ایک اے آئی ماڈل نے ایک تیسرے فریق کی سروس میں موجود سیکیورٹی خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسری کمپنی کے سسٹم تک رسائی حاصل کی۔ کمپنی کے مطابق یہ واقعہ ٹیسٹنگ ماحول میں غلط کنفیگریشن کے باعث پیش آیا۔
میٹا نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جانچ اس کی جانب سے سائبر سیکیورٹی جائزے کے لیے خدمات فراہم کرنے والی آزاد کمپنی ’Irregular‘ کر رہی تھی، تاہم کنفیگریشن میں غلطی کے باعث اے آئی ماڈل کو غیر ارادی طور پر انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی۔
یہ بھی پڑھیں:فیس بک صارفین اب مفت ویریفائیڈ بلیو ٹک حاصل کر سکتے ہیں، میٹا کا نیا پروگرام متعارف
کمپنی کے مطابق اے آئی ماڈل نے تیسرے فریق کی ایک سروس میں موجود سیکیورٹی کمزوری سے اسی انداز میں فائدہ اٹھایا، جیسا کہ حالیہ دنوں میں دیگر کمپنیوں کے ٹیسٹنگ واقعات میں بھی دیکھا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اس واقعے میں میٹا کا Muse Spark 1.1 نامی اے آئی ماڈل شامل تھا، جسے کمپنی حقیقی دنیا میں کوڈنگ اور خودکار (Agentic) کام انجام دینے کی صلاحیت رکھنے والا اپنا جدید ترین ماڈل قرار دیتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ماڈل نے ایک نامعلوم کمپنی کے سسٹم میں داخل ہو کر اس کے داخلی ماحول میں تبدیلیاں بھی کیں۔
تاہم Irregular کے ترجمان نے کہا کہ یہ واقعہ دراصل ٹیسٹنگ ماحول کی اسی نوعیت کی تکنیکی خرابی تھی جس کی نشاندہی گزشتہ ہفتے اینتھروپک کے معاملے میں بھی کی گئی تھی، اور یہ نہ تو کسی محفوظ ماحول (Sandbox) سے فرار کا واقعہ تھا اور نہ ہی کوئی پیچیدہ سائبر حملہ۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں اوپن اے آئی اور Anthropic کے اے آئی ماڈلز سے متعلق بھی اسی نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ زیادہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظام مستقبل میں سائبر حملوں میں استعمال ہو سکتے ہیں یا ان کے ذریعے سیکیورٹی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ان واقعات کے بعد امریکی قانون سازوں اور حکومتی اداروں نے جدید اے آئی ماڈلز کے حفاظتی معیار اور سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے طریقہ کار پر مزید توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں میٹا، اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل سمیت بڑی اے آئی کمپنیوں کے نمائندوں کا اجلاس بھی طلب کیا، جس میں جدید اے آئی ماڈلز کے لیے رضاکارانہ سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
میٹا کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ Irregular مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اور محفوظ سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے لیے بہترین طریقہ کار پر مشتمل ایک وائٹ پیپر بھی جاری کرے گی۔













