پشاور میں مقیم افغان باشندوں کے مبینہ غیر قانونی پاکستانی شناختی کارڈز کی تصدیق کے بعد متعلقہ اداروں نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب سے 37 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان باشندے ڈی پورٹ؛ انخلا کا عمل تیز
اطلاعات کے مطابق شہر کے 95 بازاروں میں افغان باشندوں کی تفصیلات متعلقہ اداروں کو فراہم کیے جانے کے بعد آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
جن افغان باشندوں نے مبینہ طور پر غیر قانونی ذرائع سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیے تھے ان میں سے متعدد گرفتاریوں سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے ہیں۔
تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہے ہیں۔
ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ ان کے مبینہ سہولت کاروں کے خلاف بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں جن پر غیر قانونی شناختی کارڈز کے حصول میں معاونت کا شبہ ہے۔
مزید پڑھیے: افغان باشندے غیر قانونی راستوں سے یورپ جانے کے لیے پاکستان کا استعمال کیسے کرتے ہیں؟
اطلاعات کے مطابق جن علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں ان میں خیبر بازار، قصہ خوانی، نمک منڈی، نوتھیہ بازار، زرگر آباد، خوشحال بازار، یکہ توت، گڑ منڈی، سبزی منڈی، آٹا مارکیٹ سمیت پشاور کے دیگر اہم تجارتی مراکز شامل ہیں۔
دوسری جانب افغان شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کے دستاویزات کے مطابق گزشتہ روز مزید ایک ہزار 826 افغان شہری خیبر پختونخوا کے راستے افغانستان واپس گئے۔
دستاویز کے مطابق 433 رجسٹرڈ پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین نے رضاکارانہ طور پر وطن واپسی اختیار کی جبکہ 202 اے سی سی کارڈ ہولڈر بھی افغانستان روانہ ہوئے۔
مزید پڑھیں: اپنی ہو یا پرائی مٹی چھوڑنا مشکل: دہائیوں بعد پاکستان بدری پر افغان باشندے روپڑے، میزبان بھی دل گرفتہ
محکمہ داخلہ کے مطابق ایک ہزار 168 غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی عمل میں آئی جن میں سے 190 افراد کو قانونی کارروائی کے بعد ڈی پورٹ کیا گیا۔














