اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تحریک انصاف کو مذاکرات کی کوئی نئی دعوت دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عامر ڈوگر سے ملاقات میں صرف قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس اور یومِ آزادی کی تقریبات سے متعلق امور پر بات ہوئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے کہا کہ یومِ آزادی کی تقریب کے لیے تحریک انصاف کے ارکانِ قومی اسمبلی کے نام مانگے گئے تھے، اس کے علاوہ کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر طارق فضل چوہدری کی کسی سے مذاکرات پر بات ہوئی ہے تو انہیں اس کا علم نہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ مذاکرات کی دعوتیں دیتے دیتے تھک چکے ہیں، اس لیے اب انہوں نے دعوت دینا بند کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بھی پارلیمنٹ کے فورم پر متعدد بار مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کردیا
انہوں نے کہا کہ جن اپوزیشن ارکان کی وجہ سے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، انہی کی جانب سے اس کی بحالی کے لیے کوئی درخواست نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر مسئلے کا حل مل بیٹھ کر بات کرنے میں ہے، صرف میڈیا میں بیانات دینے سے مذاکرات نہیں ہوتے۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ بظاہر تحریک انصاف نے اپوزیشن لیڈر کا انتخاب اس مقصد کے لیے کیا تھا کہ وہ مذاکرات کریں، لیکن لگتا ہے انہیں اس کی اجازت نہیں ملی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر تحریک انصاف کے قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے پاس موجود عملہ واپس کر دیا جائے تو اسے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن لیڈر ان کے چیمبر میں آنا نہیں چاہتے تو کمیٹی روم میں ملاقات کر سکتے ہیں، وہ اپنا چیمبر بھی خالی کر دیں گے، تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف مذاکرات کرنا ہی نہیں چاہتی۔














