پاکستان اور چین سے مستقل دشمنی مسئلے کا حل نہیں، آر ایس ایس سربراہ

جمعہ 7 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے ساتھ سیاسی اور عسکری تنازعات کی وجہ سے عوامی روابط کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ مستقل دشمنی کسی مسئلے کا حل نہیں۔

وہ انڈیا انٹرنیشنل ماڈل یونائیٹڈ نیشنز کی 15ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں ان سے سوال کیا گیا کہ اگر پاکستان اور چین جیسے ممالک کے ساتھ سیاسی اور فوجی تعلقات کشیدہ ہوں تو کیا شہریوں اور طلبہ کے تبادلے جاری رہنے چاہییں؟

موہن بھاگوت نے جواب میں کہا کہ جب کسی ملک کے ساتھ تنازع جاری ہو تو شہریوں کو اپنی حکومت اور مسلح افواج کی پالیسی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے شدت پسند ہندو تنظیم ’آر ایس ایس‘ نے امریکا اور یورپ میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کی مہم شروع کردی

انہوں نے کہا، ’تنازع کے دوران ہمیں اپنی حکومت اور فوج کے فیصلوں کی حمایت کرنی چاہیے۔‘ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فوری نوعیت کے تنازع اور تہذیبی و انسانی تعلقات کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینے میں فرق ہے۔

ان کا کہنا تھا، ’مستقل دشمنی کسی مسئلے کا حل نہیں۔‘

پاکستان اور چین سے تاریخی تعلقات کا حوالہ

موہن بھاگوت نے کہا کہ بھارت کے چین کے ساتھ صدیوں پر محیط تہذیبی روابط رہے ہیں، جبکہ موجودہ پاکستان تقریباً ایک صدی قبل تک برصغیر کا حصہ تھا۔

انہوں نے کہا، ’یہ تعلقات مکمل طور پر ختم نہیں کیے جا سکتے، البتہ تنازع ختم ہونے تک انہیں عارضی طور پر معطل کیا جا سکتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے آر ایس ایس کے 100 سال: تربیتی کیمپس کے ذریعے مذہبی نفرت کو منظم کیا گیا، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

ان کے مطابق جب تنازع ختم ہو جائے تو رابطے وہیں سے دوبارہ شروع ہونے چاہییں جہاں سے منقطع ہوئے تھے۔

حکومتوں کی دشمنی اور عوامی تعلقات الگ ہیں

آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ حکومتوں کے درمیان کشیدگی کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں ممالک کے عوام بھی ایک دوسرے کے مستقل دشمن ہیں۔

انہوں نے کہا، ’یہ درست نہیں کہ تمام پاکستانی دل سے بھارتیوں کے دشمن ہیں، اور نہ ہی یہ بات الٹ صورت میں درست ہے۔‘

ان کے مطابق ریاستی مفادات، سیاسی عوامل اور بین الاقوامی سرحدیں تنازعات کو جنم دے سکتی ہیں، لیکن عام شہریوں کے تعلقات کو ان معاملات سے الگ رکھنا چاہیے۔

دہشتگردی کو ‘پوشیدہ جنگ’ قرار دیا

موہن بھاگوت نے کہا کہ اگر معاملہ دہشتگردی کا ہو تو صورتحال مختلف ہوتی ہے۔

انہوں نے دہشتگردی کو  ’پوشیدہ جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں اسی نوعیت کے تقاضوں کے مطابق ردعمل دینا ضروری ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ طویل المدتی بنیادوں پر عوامی روابط کی گنجائش برقرار رہنی چاہیے، تاہم فعال سیکیورٹی خطرات کے دوران ریاستی پالیسی اور قومی سلامتی کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔

‘انسانیت ایک ہے’

تقریب کے اختتام پر موہن بھاگوت نے کہا کہ ’انسانیت ایک ہے۔‘ ان کے بقول جنگیں اور تنازعات وقتی طور پر تعلقات کو روک سکتے ہیں، لیکن انہیں ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ دیرپا امن کا راستہ مکالمے، باہمی احترام اور ہم آہنگی سے ہی نکلتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موجودہ ٹیکس نظام کو چھیڑے بغیر مچھلی کی برآمدات بڑھانے کے لیے مراعاتی اسکیم لانے کی تیاری

عالمی تنازعات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے خوراک کی قیمتیں بلند ترین سطح پر، دنیا بھوک کے بحران کی جانب گامزن

افغانستان فریڈم فرنٹ  کی مزاحمت طالبان کے مرکز اقتدار تک پہنچ گئی، کابل میں فوجی لاجسٹک نظام پر حملے کا دعویٰ

چیٹ جی پی ٹی کا نیا فیچر، صارفین ایک کلک سے اے آئی اسٹیکرز واٹس ایپ پر منتقل کرسکیں گے

اوپن اے آئی پورٹیبل اسمارٹ اسپیکرز متعارف کروائے گی، ان کی خاص بات کیا ہے؟

ویڈیو

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے، کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

 ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، آبنائے ہرمز کھولنے کے عبوری معاہدے کے امکانات روشن، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

آزاد کشیر کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا، ہم پیپلز پارٹی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، شاہ غلام قادر

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟