عالمی تنازعات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے خوراک کی قیمتیں بلند ترین سطح پر، دنیا بھوک کے بحران کی جانب گامزن

جمعہ 7 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ شدید موسمی حالات اور عالمی تنازعات کے باعث دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس سے ایک نئے عالمی غذائی بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ایف اے او کے مطابق جولائی میں عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ تین سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ خوراک کی قیمتوں کا اشاریہ جولائی میں 131 اعشاریہ 1 پوائنٹس رہا، جو جون کے 130 اعشاریہ 3 پوائنٹس کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں بھوک کا بحران اسرائیل نے جان بوجھ کر پیدا کیا، ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز

رپورٹ کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں شدید گرمی کی لہریں، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، ایل نینو کے باعث فصلوں کو نقصان اور مختلف خطوں میں جاری جنگی کشیدگی شامل ہیں۔

ادارہ خوراک و زراعت کے مطابق جولائی میں اناج کی قیمتوں کے اشاریے میں 3 اعشاریہ 4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گندم کی قیمتیں 5 اعشاریہ 8 فیصد تک بڑھ گئیں۔ بحیرہ اسود کے خطے سے برآمدات متاثر ہونے کے خدشات اور اہم پیداواری علاقوں میں گرمی کے باعث گندم کی پیداوار متاثر ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خوردنی تیل کی قیمتوں کے اشاریے میں بھی 2 فیصد اضافہ ہوا، جو جون 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور بایو ڈیزل کی طلب بڑھنے سے پام اور سویا تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایل نینو دنیا میں بھوک کا نیا بحران پیدا کر سکتا ہے، 27 کروڑ 40 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کے خطرے میں

چینی کی قیمتوں میں 5 اعشاریہ 6 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ یورپ اور ایشیا میں خراب موسمی حالات اور برازیل میں ایتھنول کی بڑھتی ہوئی طلب کو قرار دیا گیا۔

دوسری جانب گوشت کی قیمتوں میں 2 اعشاریہ 8 فیصد کمی ہوئی، تاہم اوشیانا کے خطے میں برآمدی قلت کے باعث بھیڑ کے گوشت کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ دودھ کی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی 0 اعشاریہ 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ایف اے او کے مطابق جولائی کا مجموعی غذائی قیمتوں کا اشاریہ اپریل میں ریکارڈ کیے گئے تین سالہ بلند ترین مقام سے معمولی زیادہ رہا، تاہم مارچ 2022 کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں اب بھی 18 اعشاریہ 2 فیصد کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو مشکلات کا سامنا، پچاس سال بعد مہنگائی بلند ترین سطح پر: عالمی بینک

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں، زرعی پیداوار میں مشکلات اور بڑھتے ہوئے عالمی تنازعات کے باعث دنیا ایک بار پھر غذائی مہنگائی کی نئی لہر کا سامنا کرسکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی اے ملازمین کو ایک بنیادی تنخواہ کے برابر بونس ملے گا، بورڈ آف ڈائریکٹرز نے منظوری دے دی

اے آئی بھرتی کے نظام سے 40 سال سے زائد عمر کی خواتین متاثر؟ نوکری کی تلاش میں نئے چیلنجز سامنے آ گئے

پاکستان کی سروسز ایکسپورٹس میں 19 فیصد اضافہ، آئی ٹی شعبہ نمایاں، تجارتی خسارے میں بھی بڑی کمی

مصنوعی ذہانت نے پہلی بار نئے وائرس ڈیزائن کر دیے، طبی تحقیق میں بڑی پیشرفت لیکن نئے خطرات بھی

ٹی وی کی سیاست سے اصل پارلیمنٹ تک، کنزا ہاشمی کا قومی اسمبلی کا دورہ

ویڈیو

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے، کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

 ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، آبنائے ہرمز کھولنے کے عبوری معاہدے کے امکانات روشن، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

آزاد کشیر کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا، ہم پیپلز پارٹی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، شاہ غلام قادر

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟