نیو یارک ٹائمز نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی صد سالہ تاریخ پر تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں تنظیم کی عسکری، انتہا پسند اور نسل پرستانہ حکمتِ عملی کا تجزیہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کس طرح آر ایس ایس نے بھارت میں ہندو قوم پرستی کو فروغ دے کر سیاست اور ریاستی اداروں میں اپنا اثر بڑھایا۔
یہ بھی پڑھیں:مودی اور آر ایس ایس کا گٹھ جوڑ انتہا پسندی کی جڑ، ریاستی وزیر کو قتل کی دھمکیاں
نیو یارک ٹائمز کے مطابق آر ایس ایس ایک خفیہ، نیم عسکری ہندو انتہا پسند نظریاتی تنظیم ہے جو 1925 سے تربیتی کیمپس کے ذریعے فوجی انداز میں مذہبی نفرت کو منظم کرتی رہی ہے۔ اس تنظیم کا مقصد بھارت کو ہندو قوم پرست ریاست میں تبدیل کرنا ہے اور اس کے انتہا پسند نظریات ہٹلر کے نسل پرستانہ نظریات کے مشابہ ہیں۔
Front page news – New York Times
.
From the Shadows to Power: How the Hindu Right Reshaped IndiaThe far-right group known as the R.S.S., whose members include Prime Minister Narendra Modi, has spent a century trying to make India a Hindu-first nation.https://t.co/7XeNmqIWAK pic.twitter.com/yQOJAIuka4
— Bhavika Kapoor (@BhavikaOpinion) December 30, 2025
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس نے 1948 میں گاندھی کو ’مسلمان نواز‘ کہنے کے الزام میں قتل کیا اور 1975 کی ایمرجنسی کے بعد ماضی کے جرائم دھونے کا موقع ملا۔ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد آر ایس ایس اور بی جے پی نے مذہب کو ووٹ بینک میں بدلا اور 2014 کے بعد سے آر ایس ایس بھارت کے سیکولر آئین کو ختم کر کے ہندو راشٹر قائم کرنے پر کام کر رہی ہے۔

بی جے پی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ آر ایس ایس کا سیاسی چہرہ ہے اور تنظیم کی حکمتِ عملی اب ریاستی طاقت میں بدل چکی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے بتایا کہ مودی حکومت نے آر ایس ایس آیڈیالوجی کے تحت کشمیر کی حیثیت ختم کی، رام مندر تعمیر کیا اور اقلیتوں کو منظم طور پر نشانہ بنایا، جس سے بھارت میں اقلیتیں دوسرے درجے کے شہری بن چکی ہیں۔

آر ایس ایس مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو تاریخی دشمن قرار دیتی ہے اور بی جے پی سمیت درجنوں ذیلی تنظیموں کے ذریعے ریاستی اداروں میں سرایت کر چکی ہے۔ تنظیم تعلیم، میڈیا، عدلیہ اور سیکیورٹی اسٹرکچر پر اثر انداز ہو رہی ہے جبکہ مودی آر ایس ایس کا پیروکار ہے اور اس کے انتہا پسند ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس کا سیاسی سفر خون آلود رہا ہے، جس نے بھارت کے سیکولر آئین، اقلیتوں کے حقوق اور ریاستی اداروں کی آزادی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔













