افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نے کابل ملٹری ایئرپورٹ پر راکٹ حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی میں طالبان کے فوجی لاجسٹک نظام اور نقل و حمل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم حملے سے متعلق ہلاکتوں، نقصان اور دیگر دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ طالبان نے بھی خبر لکھے جانے تک کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔
کابل ملٹری ایئرپورٹ پر حملے کا دعویٰ
کابل سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق افغانستان فریڈم فرنٹ ‘اے ایف ایف’ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کابل ملٹری ایئرپورٹ پر راکٹ حملہ کیا، جس میں طالبان کے فوجی انفراسٹرکچر، لاجسٹک سہولیات اور نقل و حمل سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان کا نیا ہتھکنڈا: کم عمر بچوں کو عسکری مقاصد کے لیے بھرتی کرنے اور انتہا پسندانہ تربیت دینے کا انکشاف
تنظیم کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیبات کو نمایاں نقصان پہنچا، جبکہ متعدد طالبان جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور طالبان کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
مزاحمت کا دائرہ اب کابل تک پھیل گیا
اے ایف ایف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان مخالف مزاحمتی سرگرمیاں شمالی افغانستان کے روایتی علاقوں سے نکل کر اب دارالحکومت کابل تک پہنچ چکی ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ مزاحمتی قوتیں اب ملک کے حساس اور اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ضلع زیبک سے متعلق بھی دعویٰ
مزاحمتی گروپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ضلع زیبک میں مبینہ شکست کے بعد طالبان غیر ملکی اور مقامی عسکریت پسند عناصر کو فضائی راستوں کے ذریعے مختلف علاقوں میں منتقل کر رہے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی بھی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
حالیہ حملوں کے تناظر میں اہم پیش رفت
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران طالبان مخالف مزاحمتی گروہوں نے کندز ملٹری ایئرپورٹ سمیت مختلف فوجی تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
مزید پڑھیں:افغانستان میں طالبان مخالف گروپس کی کارروائیاں تیز، چوکی پر حملہ کرکے اسلحہ پر قبضے کا دعویٰ
مبصرین کے مطابق اگر ان حملوں سے متعلق دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ طالبان کے فوجی لاجسٹک نظام اور اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی ایک منظم حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کابل ملٹری ایئرپورٹ پر حملے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اسے حالیہ مہینوں میں دارالحکومت میں طالبان مخالف مزاحمت کی نمایاں کارروائیوں میں شمار کیا جائے گا، جو طالبان کے زیرِ انتظام حساس فوجی تنصیبات تک مزاحمتی گروہوں کی رسائی کا اشارہ سمجھی جا سکتی ہے۔
طالبان کا مؤقف اور اے ایف ایف کا دعویٰ
طالبان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے۔ دوسری جانب اے ایف ایف کا کہنا ہے کہ اس کی حالیہ کارروائی اس دعوے کی نفی کرتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ منظم مسلح مزاحمت اب بھی سرگرم ہے اور اہم اسٹریٹجک اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بدخشاں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی، فریڈم فرنٹ کا طالبان کے 2 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ
افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مختلف طالبان مخالف مزاحمتی گروہ، خصوصاً افغانستان فریڈم فرنٹ ‘اے ایف ایف’، وقتاً فوقتاً مختلف صوبوں میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔
تاہم بیشتر واقعات میں ہلاکتوں، نقصان اور کارروائیوں کی تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی، جبکہ طالبان اکثر ایسے دعوؤں کو مسترد کرتے یا ان کی اہمیت کم قرار دیتے ہیں۔














