جرمنی کے اہم فوجی و تجارتی ہوائی اڈے پر ایک بس ڈرائیور نے کمالِ بہادری اور حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بارود سے لیس ڈرون کو ہوا ہی میں ٹھوکر مار کر نیچے گرا دیا اور ایک ممکنہ دہشت گردانہ حملے کو ناکام بنا دیا۔ سینئر قانون ساز کے مطابق اس کارروائی سے ناٹو (NATO) کے اہم لاجسٹکس ہب کو بڑے نقصان سے بچا لیا گیا ہے۔
جرمن حکمران جماعت سی ڈی یو کے سینئر رہنما ڈیٹلف سیف نے صحافیوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ منگل کی دیر رات لپزگ/ہالے ایئرپورٹ پر ڈیوٹی کے دوران ایک بس ڈرائیور نے انتہائی کم بلندی پر اڑتے ہوئے ڈرون کو دیکھا۔ ڈرائیور نے انتہائی جرات مندانہ لیکن خطرناک اقدام اٹھاتے ہوئے ہوا میں پرواز کرتے ڈرون کو لات مار کر نیچے گرا دیا۔
یہ بھی پڑھیے ازبکستان نے افغانستان سے آنے والا منشیات بردار ڈرون مار گرایا
رکنِ پارلیمنٹ نے مزید بتایا کہ بس ڈرائیور کی ہٹ کے بعد ڈرون قریب ہی زمین پر جا گرا۔ پراسیکیوٹرز کے مطابق مذکورہ ڈرون میں پیشہ ورانہ سطح کا دھماکہ خیز مواد اور ڈیٹو نیٹر نصب کیا گیا تھا، جسے تباہی پھیلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
جرمن وفاقی پراسیکیوٹرز نے اس واقعے کی باقاعدہ انسدادِ دہشتگردی کے قوانین کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ ایک شدید نوعیت کا حملہ تھا جو ملک کی داخلی اور خارجی سلامتی کو سنگین طور پر متاثر کر سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے یوکرین کے خفیہ ڈرون دستے کی کہانی، اہلخانہ بھی بے خبر
اگرچہ اس واقعے کی ابتدائی اطلاع بدھ کے روز سامنے آئی تھی، تاہم ڈیٹلف سیف کے بیان نے اس بات سے پردہ اٹھایا ہے کہ ڈرون کو کس طرح دیکھا اور ناکارہ بنایا گیا۔ جرمن حکام نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر بس ڈرائیور کا نام صیغہ راز میں رکھا ہے اور اس بات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ ڈرون کہاں سے پرواز کر کے آیا اور ایئرپورٹ کے حساس ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے میں کیسے کامیاب ہوا۔













