کیف نے روسی بندرگاہ نووروسیسک میں قائم کیسپین پائپ لائن کنسورشیم کے بنیادی ڈھانچے اور بعض تیل بردار جہازوں کو نشانہ نہ بنانے پر امریکا کو یقین دہانی کرائی ہے، جن میں امریکی کمپنیوں کے مفادات بھی شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یوکرین نے امریکا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (سی پی سی) کے اس بنیادی ڈھانچے پر حملے نہیں کرے گا جہاں قازقستان سے آنے والا خام تیل یورپ اور ایشیا کے لیے بحری جہازوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ امریکی حکام نے بھی روسی بندرگاہ نووروسیسک میں سی پی سی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سی پی سی میں روس، قازقستان، مغربی یورپ اور امریکا کی کمپنیوں کے حصص ہیں، جن میں امریکی کمپنیاں شیورون اور ایکسون موبل بھی شامل ہیں۔ سی پی سی قازقستان کی تقریباً 80 فیصد تیل برآمدات کی ترسیل کرتا ہے۔
Zelenskyy: Ukrainian Defense Forces attacked the Bashneft-Novoil refinery in Bashkortostan and the Slavneft-JANOS refinery in the Yaroslavl region. The Ukrainian president also reported that two military cutters and ships of the shadow fleet in the Black Sea were hit.
Source:… pic.twitter.com/Mdsj0KNIG9
— Belsat in English (@Belsat_Eng) August 6, 2026
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یوکرین نے فروری میں اس ٹرمینل کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنانا شروع کیا تھا اور سال بھر حملے جاری رہے۔ گزشتہ ماہ ہونے والے حملوں کے بعد امریکی کمپنیوں کے زیر استعمال بعض بحری جہازوں نے ٹرمینل سے تیل کی ترسیل روک دی تھی۔
امریکا کے ساتھ مبینہ طور پر طے پانے والی مفاہمت کے تحت یوکرین نے سی پی سی کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ ان بحری جہازوں کو بھی نشانہ نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے جو یوکرین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں اور روسی تیل لے کر نہیں جا رہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی شیورون کے سربراہ مائیک ورتھ نے گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس سے خطے میں کمپنی کے مفادات کے تحفظ کی درخواست بھی کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:روس کے ساحلی تفریحی مقام پر دھماکا، 4 بچوں سمیت 7 افراد ہلاک، روس اور یوکرین کے متضاد دعوے
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی عالمی بحری تجارت متاثر ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی بحری تیل اور ایل این جی تجارت گزرتی ہے، جبکہ بحیرۂ احمر میں بھی کشیدگی نے عالمی توانائی کی ترسیل کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کی کوششیں بھی پس منظر میں چلی گئی ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل تیار کرنے کا لائسنس دینے کی اپنی سابقہ یقین دہانی سے بھی پیچھے ہٹنے کے اشارے دیے ہیں۔













