معروف اداکارہ روبینہ اشرف نے ہرخاتون کے شوہراور سسرال والوں پر زور دیا ہے کہ وہ زچگی کے بعد خواتین کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کو سمجھیں اور ان کے ساتھ زیادہ ہمدردی کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ حمل، زچگی کے بعد ڈپریشن اور حمل کے دوران جذباتی اتار چڑھاؤ حقیقی مسائل ہیں جنہیں نظر انداز کرنے کے بجائے خواتین کو تعاون اور مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
خواتین کو نصیحت نہیں، سمجھنے اور ساتھ دینے کی ضرورت ہے
ایک انٹرویو میں روبینہ اشرف نے کہا کہ زچگی کے بعد خواتین کے اردگرد موجود افراد، خصوصاً شوہر اور سسرال والوں کو ان کے ساتھ زیادہ حساس، ہمدرد اور سمجھدار رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:’یو ٹو کنگنا‘: جین زی ’گٹر جنریشن‘ سے ملک کی اہم طاقت قرار، بھارتی اداکارہ و سیاستدان کا بڑا یوٹرن
انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں خاتون کا تنہا رہنا انتہائی مشکل ہوسکتا ہے، اس لیے خاندان کو چاہیے کہ وہ اس کی جذباتی ضروریات کو سمجھتے ہوئے عملی تعاون فراہم کرے۔
روبینہ اشرف نے معاشرے میں خواتین کے جذباتی مسائل کو معمولی سمجھنے کے رویے پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق خواتین کو غیر ضروری نصیحتیں کرنے کے بجائے ان کے تجربات اور مشکلات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
حمل اور زچگی کے بعد ذہنی کیفیت کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت
اداکارہ نے کہا کہ حمل، زچگی کے بعد ذہنی دباؤ اور حمل کے دوران پیدا ہونے والی جذباتی کیفیت حقیقی مسائل ہیں، جنہیں ماضی میں زیادہ تر سمجھا ہی نہیں جاتا تھا۔
ان کے مطابق گزشتہ نسلوں میں ان مسائل کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے باعث بہت سی خواتین اپنی مشکلات خاموشی سے برداشت کرتی رہیں۔ روبینہ نے اس جانب توجہ دلائی کہ یہ معلوم نہیں کہ ماضی میں ماؤں نے کن حالات اور کن رویوں کا سامنا کیا۔
انہوں نے کہا کہ حمل کے دوران عورت کے جسم میں بالوں، جلد اور جسمانی ساخت سمیت متعدد تبدیلیاں آتی ہیں، جو بعض اوقات اس کے لیے ذہنی دباؤ، بے چینی اور ملے جلے جذبات کا باعث بن سکتی ہیں۔
شادی کے بعد بھی زندگی میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں
روبینہ اشرف نے کہا کہ خواتین کے لیے شادی بھی زندگی کی ایک بڑی تبدیلی ہوتی ہے، کیونکہ انہیں اپنے مانوس ماحول سے نکل کر نئے گھر اور نئے لوگوں کے درمیان زندگی شروع کرنا پڑتی ہے۔
ان کے مطابق مشکل وقت میں جن لوگوں سے خاتون کو سب سے زیادہ تعاون کی توقع ہوتی ہے، اگر انہی کی جانب سے مختلف رویے یا تلخ ردعمل ملیں تو صورتحال مزید مشکل ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں: لاہور: زچگیوں کی ویڈیو سازی اور وائرل کرنے کی شرمناک حرکت، پی ایم ڈی سی کا سخت نوٹس
اداکارہ نے خواتین کو یہ پیغام بھی دیا کہ مدد طلب کرنا کمزوری نہیں۔ خصوصاً پہلی مرتبہ ماں بننے والی خواتین کو چاہیے کہ وہ ضرورت پڑنے پر اپنے گھر والوں سے مدد مانگیں اور خود کو ہر ذمہ داری اکیلے نبھانے پر مجبور نہ کریں۔
نئی ماؤں کے لیے خاندانی تعاون کیوں اہم ہے؟
زچگی کے بعد خاتون نہ صرف جسمانی تبدیلیوں سے گزرتی ہے بلکہ نیند کی کمی، بچے کی مسلسل دیکھ بھال، ہارمونز میں تبدیلی اور نئی ذمہ داریوں کے باعث جذباتی دباؤ کا بھی سامنا کرسکتی ہے۔
ایسے میں شوہر اور خاندان کی جانب سے ہمدردانہ رویہ، عملی مدد اور خاتون کی بات سننا اس کے لیے اہم سہارا بن سکتا ہے۔
روبینہ اشرف کا کہنا ہے کہ نئی ماؤں کی مشکلات کو معمولی قرار دینے کے بجائے انہیں سنجیدگی سے سمجھنے اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔
شوبز شخصیات بھی زچگی کے بعد ذہنی صحت پر بات کرچکی ہیں
روبینہ اشرف سے قبل اداکارہ زارا نور عباس اور اداکارہ سروت گیلانی بھی حمل، زچگی اور زچگی کے بعد ڈپریشن سے متعلق اپنے ذاتی تجربات عوام کے ساتھ شیئر کرچکی ہیں۔
سروت گیلانی نے اپنے تجربے کے دوران زچگی کے بعد پیدا ہونے والی شدید جذباتی مشکلات پر کھل کر بات کی تھی، جبکہ زارا نور عباس نے نئی ماؤں کو اپنے جسم اور اندرونی احساسات پر توجہ دینے کا پیغام دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:بالی ووڈ کے نامور اداکار پردیپ راوت کینسر سے طویل جنگ کے بعد چل بسے
شوبز سے وابستہ خواتین کی جانب سے ان موضوعات پر کھل کر گفتگو نے زچگی کے بعد ذہنی صحت اور خاندانی تعاون کی اہمیت کو عوامی بحث کا حصہ بنایا ہے۔
ماہرین بھی عمومی طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نئی ماؤں کو جذباتی مشکلات کی صورت میں تنقید یا طعنوں کے بجائے سمجھ بوجھ، تعاون اور ضرورت پڑنے پر مناسب پیشہ ورانہ مدد فراہم کی جانی چاہیے۔














