امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے مکہ میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کو امتِ مسلمہ کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک کو بھی اس اتحاد میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے مکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کو مل کر ایک طاقتور دفاعی نیٹ ورک تشکیل دینا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس اتحاد کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے تاکہ امتِ مسلمہ کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے، کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا
پاک افغان تعلقات اور صوبائی امن و امان پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا، بالخصوص جنوبی اضلاع میں امن کی صورتحال تشویشناک ہے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، جبکہ اسلام آباد کو بھی کابل کے ساتھ افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کرنے اور سرحدی تجارت کو فروغ دینے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کا مقصد صرف سیکیورٹی اقدامات نہیں بلکہ روزگار اور تعلیم کی فراہمی بھی تھا۔
یہ بھی پڑھیے پیٹرول پر عائد لیوی فوری ختم کی جائے، حافظ نعیم الرحمان کا مطالبہ
حکومتی معاشی پالیسیوں اور مہنگائی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کے نام پر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئی پی پیز مافیا اور نااہل حکومت کے خلاف جماعت اسلامی 16 اگست کو چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں بیک وقت احتجاجی دھرنے دے گی، جن کے تحت پنجاب میں وزیراعلیٰ ہاؤس جبکہ سندھ اور خیبرپختونخوا میں گورنر ہاؤسز کا گھیراؤ کیا جائے گا۔














