اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق 15 نکاتی امن منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کو مکمل اور حقیقی طور پر غیر مسلح کیے جانے تک اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں ہوگی۔
نیتن یاہو نے اتوار کو کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل 15 نکاتی دستاویز مسترد کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج حماس کے حقیقی معنوں میں غیر مسلح ہونے تک انخلا نہیں کرے گی اور اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو لاحق خطرات کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔
مزید پڑھیں:حماس کا غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے آمادگی کا اعلان
ٹرمپ کے بورڈ آف پیس نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ تاہم حماس کا مؤقف ہے کہ بھاری ہتھیار حوالے کرنے کا عمل اسرائیل کی جانب سے غزہ میں تمام فوجی کارروائیاں ختم کرنے اور اپنی افواج واپس بلانے سے مشروط ہوگا۔
حماس کے ایک عہدیدار نے اتوار کو کہا کہ تنظیم 15 نکاتی منصوبے کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرتی ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ثالثوں پر زور دیا کہ وہ تمام فریقوں کو طے شدہ معاہدے کی پاسداری یقینی بنانے پر آمادہ کریں۔
Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu says Israel rejects a Gaza plan hailed by US President Donald Trump, vowing no military pullout until Hamas “genuinely” disarms.
“Israel rejects the 15-point document. pic.twitter.com/fEX9IWcoRl— Middle East Eye (@MiddleEastEye) August 9, 2026
نیتن یاہو کے بیان کو ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے لیے ایک اور دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ منصوبے میں معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے بورڈ آف پیس کا قیام، حماس کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا اور علاقے کی تعمیر نو شامل ہے۔
غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے مقرر کردہ امریکی سفارتی نمائندے نکولے ملادینوف نے منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت جاری ہے اور مثبت نتیجے کی امید ہے۔ ان کے مطابق منصوبہ قابل تصدیق اور مرحلہ وار عمل پر مبنی ہے، جسے ضرورت پڑنے پر روکا بھی جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:غزہ امن منصوبے پر بڑا یوٹرن؟ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی مسودہ ماننے سے انکار کر دیا
ملادینوف نے کہا کہ اسرائیل کو اس وقت تک مکمل انخلا نہیں کرنا ہوگا جب تک یہ تصدیق نہ ہوجائے کہ حماس نے ہتھیار ڈالنے کی جانب عملی اقدامات شروع کردیے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد قریباً 19 لاکھ افراد، یعنی غزہ کی 90 فیصد آبادی، بے گھر ہوچکی ہے۔
غزہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں قریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اسرائیل کی جوابی فوجی کارروائی میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 73 ہزار سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں۔














